حمد و مناجات — Page 106
106 کشتی کو پانیوں میں رواں دیکھ کر زباں کہتی ہے اس کو کوئی چلاتا ہے کب تک رہے گا ضد و تعصب میں فلسفی ناخدا سمت ہیں شواہ۔خلاق دوسرا ہر شبیر پر ہے نورِ بصیرت سے جس کا دل حاصل ہے اس کو لذت دیدار دلربا 2 اے مالک ہر دو سرا اے مہر باں مشکل کشا بے تاب ہو کر ہے اٹھا تیری طرف دعا شافی مطلق خدا جان جہاں کو دے شفا سُن کر یہ غم افزا خبر ہیں مضطرب قلب و جگر بیمار ہے رشک قمر تیرا ہی ہے بس آسرا اے شافی مطلق خدا جہاں کو دے شفا جان اے خالق کون و مکاں سن لے دعائے بیکساں اے شافی مطلق جان بخشش کے بحر بے کراں ہر دل کی ہے یہ التجا خدا جہاں کو دے شفا (الفضل 13 نومبر 2002ء)