ہماری کہانی — Page 7
بسم الله الرحمن الرحيمة اتاں، بابا بہن بھائی۔گھر آنگن۔سکھیاں۔سہیلیاں۔پیڑوں پر جھولے۔کیریاں اور کچے امرود توڑنا ، اور شرارتیں۔بچپن کی بے فکری اور لا ابالی پن۔یہی کل کائنات تھی جو آنگن سے گلی اور محلے کے چند مانوس گھروں تک محدود تھی۔ماں کی نرم گود بہت گرم اور میٹھی تھی۔مگر ہر پک اختیاط کرتی ہوئی نگا ہوں میں وہ ان لکھا آئین تھا جس پر عمل کرنا لازمی تھا۔بابا کے گھر میں آجانے سے یہی دستور عمل زیادہ سختی سے لاگو ہو جاتا۔قدم قدم بڑھتا ہوا شعور اردگرد کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ جان لینے پر اکساتا۔رشتہ داروں کے سلوک میں شیر بینی اور تلخی کا احساس ہونے لگا۔اماں کی خدمت گزاری کی عادت پہلا نقش تھا جو دل پر جما۔میری کہانی کے اصل کردار میرے بابا اور اماں ہیں۔اس لئے کچھ تعارف کروا دوں پھر بات آگے بڑھاؤں۔کوئی پانچ چھ سو سال پہلے کی بات ہے۔ہمارے آباؤ اجداد جو ہندو تھے۔سندھ سے یاترا کی غرض سے عشقہ آئے بھیفہ میں کسی بزرگ ولی کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا اور کچھ کے علاقے میں آباد ہو گئے مومن مقامی زبان میں میمن ، ہو گیا اور یہ خاندان کچھی میمن کہلانے لگے۔اس وقت کچھ علاقے پر ہندو راجہ کی حکمرانی تھی۔اسلام قبول کر کے یہیں کے ہو رہے اور کراچی، بمبئی ، مدراس اور بنگلور وغیرہ شہروں میں پھیل گئے۔مختلف شہروں میں بس جانے کے باوجود آپس میں تعلق رکھا۔اور مضبوط جماعتی تنظیم قائم کرلی۔مہر شہر کا ایک صدر ہوتا تھا۔خط و کتابت سے اہم مشورے