ہماری کہانی

by Other Authors

Page 8 of 124

ہماری کہانی — Page 8

کئے جاتے۔تنظیم کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں کی تعلیم کا خیال رکھے۔بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کرے۔شادی بیاہ پر طے شدہ رسوم کی پابندی کرائی جاتی۔غریب لوگ جہیز میں دو۔امیر صرف پانچ ہوئے دیتے۔حق مہر صرف پانچ روپے مقرر کیا جاتا۔طلاق دینا معیوب اور تقریباً ممنوع تھا۔اگر ایسی نوبت آجائے تو تنظیم مطلقہ کے نان نفقہ کا خرج دلاتی۔اگر کوئی مرد کچھی میمن جماعت سے باہر شادی کر لیتا تو اس کی اولاد کو بہتر کہا جاتا۔جبکہ آپس کی شادی میں اولاد چوکھا " کہلاتی۔دونوں کی سماجی حیثیت میں بڑا فرق ہوتا تھا۔بتر لوگوں کو آگے رشتوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔زبان اور لباس بہت مختلف تھا۔مرد شیروانی، کھلے پائنچے کا پاجامہ اور ٹوپی پہنتے جبکہ عورتیں زری کے کام والا لمب کرتا اور چوڑے زری کے کام کے پاجامے پہنتیں۔میرے والد عبد الستار حاجی ابراہیم کلکتہ، شیشہ گلی میں پیدا ہوئے صحیح تاریخ اور وقت محفوظ رکھنے کا رواج نہ تھا۔والدین بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔دادا دادی نے پالا تھا۔انہی کی روایت کے مطابق ۲۱ مارچ شده مطابق ۱۹؍ رجب المرجب ساده تاریخ ولادت بنتی ہے۔ہمارا بہت بڑا خاندان تھا۔بابا تعلیم یافتہ تھے۔چار زبانیں سیکھی تھیں۔ذہین تھے اور تجارت میں طبعاً بہت مشاق تھے محنتی تھے۔حلال کی کمائی ایمان تھا۔اللہ پاک نے بہت برکت اور بہت عززت دی تھی۔وہ ایک شوگر مل میں جنرل مینجر تھے اور جب گھر میں ان کے مرتبے کا ذکر چلتا تو اکثر یہ سننے میں آتا کہ ان کے ماتحت چار انگریز بھی کام کرتے تھے۔ایک ہی فرم میں ہیں پچیس سال