ہماری کہانی — Page 6
ان کے حق میں بہت دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے ہمت طلب کی اسکے بعد راستہ پوچھتے پوچھتے احمدیہ ہال پہنچی۔اور صدر صاحبہ سے درخواست کی کہ جماعت کی خدمت کا کہ کچھ موقع دیں۔آپا سلیمہ صاحبہ نے شعبہ اشاعت میں بھیجا۔یہاں آپا باری صاحبہ اور آپا خورشید صاحبہ کے تعاون اور حوصلہ افزائی سے سیلز سیکشن میں کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔یہ بھی اللہ کا احسان ہے ورنہ میں تو بہت نا اہل ہوں اور اپنے اوپر کوئی اعتماد بھی نہیں تھا۔کتاب لکھنے کی تحریک ایک خواب سے ہوئی۔دیکھا کہ بابا اپنی قبر میں اٹھ کر بیٹھے ہیں۔ہمیں کہتی ہوں بابا آپ کی تو حضرت مسیح موعود سے ملاقات ہوتی ہو گی نا! میرا ان کو سلام پہنچا دیجئے گا۔انہوں نے کچھ جواب دیا جو سمجھ نہ سکی۔بعد میں جب یہ کتاب لکھنے کی صورت بنی تو تعبیر سمجھ میں آئی کہ قبر میں اٹھ کر بیٹھنا اُن کی یاد کا زندہ ہونا اور ران کے ذکر کا ازدیاد ایمان کا باعث بننا ہے۔آپا باری نے دو تین دفعہ کہا کہ آپ جس طرح کا مرضی لکھ دیں بالکل گھبرائیں نہیں۔بابا کی قربانیوں سے مجھے قرآن کریم کی ایک آیت یاد آتی ہے جس کا مضمون اس طرح ہے۔خدا تعالیٰ کا فروں سے پوچھے گا کہ تم نے کیوں نبی کو ٹھکرایا تو وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہ تھا۔پھر انہیں کی قوم کے بعض لوگ دکھائے گا کہ یہ بھی تو تمہاری طرح انسان تھے۔۔۔۔خدا کرے کہ میرے بابا ان مثالی لوگوں میں شامل ہوں۔ہمارے بابا کی قربانیوں کی بدولت ہمیں یہ عظیم نعمت ملی۔میری اتنی جان کی ثابت قدمی بھی قابل رشک ہے۔اب میرے خاندان کے بہت سارے بلکہ تین حصہ لوگ جن کا ذکر آچکا ہے موت کی آغوش میں آچکے ہیں۔میں بھی آجکل بیمار ہوں۔خدا کرے بقیہ زندگی مقبول خدمت دین میں گذرے انجام بخیر ہور میں دعا گو ہوں اور دعا کی درخواست کرتی ہو ان کے لئے جنہوں نے اس کے لکھنے میں میری مدد کی۔اللہ تعالیٰ ہماری بخشش فرمائے۔