ہماری کہانی — Page 62
۶۲ نیت کے مطابق آپ کو اللہ تعالیٰ دے گا مگر هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانِ۔کے ماتحت میں جو کچھ کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر وقت دل سے اور زبان سے چند باتیں آپ کو بتا دوں تاکہ غلط فہمی کی وجہ سے جو نقصانات آپ کو نادانستہ پہنچ رہا ہے اس سے آپ بچ جائیں اور وہ نیکیاں جو آپ نے کی ہیں دھل نہ جائیں۔اس تمہید سے شاید آپ کو یہ خیال ہو گا کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کے متعلق (APOLOGY) کے طور پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں یا پھر عقائد کی بحث حاشا و کلا ہرگز میرا یہ مقصود نہیں مگر صرف اس قدر اپیل کرتا ہوں کہ اس تحریر کو آپ غصہ اور عجلت سے علیحدہ ہو کر پڑھیں اور اس پر چند لمحمد خالی الذہن ہو کر غور اور فکر کر میں اس کے بعد بھی اگر آپ کا ضمیر آپ کو یہ مشورہ دے کہ آپ نے جو کچھ کیا صحیح کیا اور جو کچھ کرتے جا رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں تو پھر میرا اور آپ کا دونوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے لیکن اگر آپ کا نفس آپ کو یہ فیصلہ دے کہ میرے معاملہ میں آپ کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ کچھ زیادتی ہوگئی ہے تو اس چند روزہ دنیا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ سے درست کر لیں۔یہ ممکن ہے کہ ذیل کی تحریر میں کچھ الفاظ ایسے آجائیں جو ادب کے خلاف ہوں با ا تو میں معافی چاہتا ہوں میرا مطلب ہر گز بے ادبی نہیں بلکہ اظہایہ واقعہ ہو گا۔(1) آپ سے جو میری مختصر گفتگو ہوئی تھی اس میں آپ نے میری کوئی بات سننے سے انکار کیا تھا یہ آپ کی مرضی تھی آپ کا اختیار تھا۔اس میں میرا کوئی زور نہیں تھا۔مگر اس دوران آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ تمہاری عاقبت کا معاملہ ہے مجھے اس سے کچھ بحث نہیں۔اس پر آپ قائم نہ رہے اور اس کے فوراً بعد ہی آپ نے پارٹ لینا شروع کر دیا۔(۲) آپ نے فرمایا تھا کہ ابا میاں میرے پاس آیا تھا۔وہ لڑکے کی نسبت توڑنا چاہتا