ہماری کہانی — Page 63
۶۳ ہے۔میں نے اس کو جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا ہوں تم جماعت کی اجازت لو اور توڑ دوئیں کوئی مشورہ نہیں دوں گا۔مگر آپ اس پر بھی قائم نہیں رہے اور اس کے فوراً بعد ہی کار روائی شروع کر دی اور معاملہ کو وہاں تک پہنچایا کہ خطرناک حد تک پہنچ گیا۔(۳) کچھی مین جماعت کے صدر ہونے کی حیثیت سے آپ نے جماعت کے لوگوں کو بلا کر مجھے جماعت سے خارج کرنے کی تجویز کی حالانکہ جماعت کا کوئی ایسا قانون نہیں نہ جماعت کے کسی فرد کو اس کا اختیار ہے نہ بمبئی کلکتہ مدراس بنگلور کراچی کسی جگہ کوئی ایسی مثال موجود ہے حالانکہ میرے پاس دلیلیں موجود ہیں کہ بہبی مدراس بنگلور میں مین ہے اور ابھی موجود ہیں جو جماعت احمدیہ قادیان سے تعلق رکھتے ہیں اور جماعت کو ان کے نکالنے کا کوئی حق نہیں کلکتہ میں تو ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو خدا رسول اور مذہب ہی سے منکر ہیں۔ان میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو پوچھا جائے جو پنجوقتہ نماز کے بھی قائل نہیں اور غالباً اعلانیہ اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔(۴، شاید جماعت سے خارج کرنے کا بھی آپ کو علم تھا اس کے علاوہ اپنے متعلق تو آپ کو اختیار تھا لیکن مین جماعت کے تمام افراد کو بلا بلا کر بائیکاٹ کرنے کی تحریک آپ نے کی میرے تمام قریبی رشتہ داروں کا آنا جانا ملنا ملانا آپ نے بند کرایا۔بھائی کو بھائی سے بہن کو بھائی سے ماں کو بیٹی سے بیویوں کو شوہروں سے آپ نے علیحدہ کرایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اتنا تنگ کیا گیا کہ اپنی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے جدا ہونا پڑا (۵) یہ سب کچھ میرے ساتھ ایسی حالت میں کیا گیا اور یہ جانتے ہوئے آپ نے کیا کہ میں موت کے بستر پر زندگی کے دن گن رہا ہوں اور ڈاکٹر نے یہ فیصلہ دیا ہوا ہے کہ آئندہ اگر مجھے باہر نکلنے کی مجبوری ہو تو ایک آدمی میرے ساتھ رہے۔یعنی ہر وقت ہارٹ فیل ہو جانے کا خطرہ ہے۔