ہماری کہانی

by Other Authors

Page 95 of 124

ہماری کہانی — Page 95

۹۵ ئیں چند فقروں میں لکھ جاؤں گی مگر ان دنوں جو صبح سے شام ہوتی اور شام سے صبح ہوتی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس وقت خدا تعالیٰ کے قرب کا جو نظارہ دیکھا وہ رگ وپے میں رچ بس گیا۔اگر امتی ہمت ہار دیتیں یا مسائل سے گھبرا کر کسی کی مدد قبول کر لیتیں تو یہ لذت کہاں سے ملتی۔یہ احساس عزت نفس کہاں رہتا۔ہماری نگاہیں ہمیشہ کے لئے جھک جاتیں۔مجھے یقین ہے کہ جہاں بھی کوئی خدا کا نام لینے کے لئے دکھ دیا جاتا ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ قریب تر آکر دستگیری کرتا ہے۔مگر جب یہ حالات خود پر گذر سے ہوں تو حلاوتِ ایمانی کا عالم کچھ اور ہی ہوتا ہے اور خدا پر ایمان میسج کی طرح دل میں گڑ جاتا ہے ہمیں ان حالات نے یہ دولت خوب کھل کر دی اور اس کے ساتھ صبر و شکر بھی عطا کیا۔ہم نے میر کے میٹھے پھیل کی لذت ساری عمر لمحہ لمح محسوس کی ہے۔19ء میں جرمن برٹش جنگ کی وجہ سے کلکتہ کی حالت خراب ہو گئی تو سب رشتہ دار بمبئی چلے گئے۔امی جان نے ملک پور جانے کا فیصلہ کیا۔شادید بمباری میں راتوں رات وہاں پہنچے۔بڑی اماں کا خاندان بھی وہیں آگیا۔خالہ کی نندوں سے ہم سب کی عمروں کی مناسبت تھی۔رات کو خوب کھیلتے چاندنی میں گھاٹ کے اوپر بیٹھنے کے بڑے سے چبوترے پر تکیہ لگا کر بڑے بیٹھ جاتے اور ہم جگنوؤں کے پیچھے بھاگتے۔بڑے پاندان سے پان لگا لگا کر کھاتے جبکہ ہم پیڑوں سے بیر اور فالسہ توڑتے۔ناریل کا پانی پیتے تالاب میں نہاتے۔خالہ کی دیورانی بھی بہت نفیس عورت تھیں۔ایک طرف ہمارا با در چی خانہ ایک طرف آن کا۔رات کو مالی لالٹین جلا کر دے جاتا۔رات کے سناٹے میں گیدڑوں کی آواز میں ڈرائیں ٹرین کی آواز بھی آتی تھی۔بمباری کی آواز پر سب کلمہ و درود پڑھتے ہم اس پر بھی بنتے رہتے۔سارا خاندان محبت کرنے والا تھا۔وہاں کسی بزرگ کی تعمیر