ہماری کہانی

by Other Authors

Page 94 of 124

ہماری کہانی — Page 94

۹۴ میری آپیاز کتہ کی پہلی نسبت ہماری احمدیت قبول کرنے پر قائم نہ رہی تھی۔دوسری نسبت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب کے لڑکے ہاشم صاحب سے طے ہوئی۔وہ بڑے چاؤ سے شادی کر کے لے گئے حق مہر دستور کے مطابق دس روپے رکھا۔صرف چار ماہ کے بعد طلاق دے دی ریستار خداند علی سب کی خطائیں معان کر دیں مگر ہماری دیکھی آیا پر پہاڑ آپڑا تھا۔جس نے اسے نفسیاتی مرینہ بنا دیا۔ہادی ماموں نے مصالحت کی کوشش کی اور موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمجھانے لگے دیکھو احمدیوں میں کیا رکھا ہے۔ابھی بھی توبہ کرلو۔خدا کا شکر ہے کہ امی نے ہر آن انش پر صبر کیا۔آپا کو سانس کی تکلیف رہتی تھی۔صدمے سے بہت بڑھ گئی۔دوسری بہن آپا رابعہ کے لئے ہادی ماموں کے ذریعے نوری صاحب کے سالے یعنی بیوی کے بھائی عبد الرحیم یونس صاحب کا پیغام دیا۔شادی پر بہت لوگ میمن جماعت کے آئے۔بعد میں پتہ چلا کہ یونس عثمان صاحب اور یونس صاحب نے مل کر یہ مشہور کرا دیا تھا کہ رقیہ بیگم نے توبہ کرلی ہے۔جب امی کو علم ہوا تو شدید ناراض ہوئیں میں نے پہلے کبھی امی کو اس قدر ناراض نہیں دیکھا تھا۔ہادی ماموں سے اصرار کیا کہ دوبارہ اعلان کروائیں کہ ہم نے احمدیت سے تو یہ نہیں کی۔بابا کی وفات کے ساتھ ایک ایسے شخص کی داستان ختم ہو گئی جو ایک باکل نئی جماعت میں احمدیت کے پیغام کا بانی ثابت ہوا۔پھر اس کے خاندان پر کیا گذری اور کسی طرح اس بوڑھے پیڑ سے نئے پودے اُگے۔اور باغ احمدیت کی بہار سے سرسبز ہوئے یہ ایک الگ اور ایمان افروز کہانی ہے اور اس کہانی کی جان میری ماں ہے سرداری کی حمایت سے محروم جوان بچیوں کا ساتھ۔ذرائع آمدنی مفقود - ایک تنها بیوہ عورت کس طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ چومکھی لڑائی لڑتی ہے اور سرخرو رہتی ہے۔گزرے ماہ وسال کو