ہماری کہانی — Page 84
کسی مسجد کے حجرہ میں بند کر دیا جائے اور سات برسن تک فَعَلَا فَعَلُوا فَعَلْتُم فَعَلْنَا کرنے کے بعد چند اخلاقی حدیثیں اور اقوال الرجال لے کر اس بھو کی فوج کے اندر ایک کا اضافہ کر دے۔مجھے افسوس ہے کہ بے جا طوالت سے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں نگر میں مجبور ہوں کہ آپ کو پہلی اور آخری مرتبہ جو کچھ کہنا ہے کہہ دوں تاکہ کوئی غلط قدم اٹھانے سے پہلے آپ اس کے ہر پہلو پر غور و فکر کرنیں تاکہ بعد میں اس کا افسوس نہ رہے اور کاش یہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے اور ان کے فتوے پیٹ کر ان کے حوالہ کر دیں اور ہم لوگوں کے گھر کا امن چین قائم رہے۔آپ نے لکھنو میں فرمایا تھا کہ تمہاری ذات کے ساتھ کسی کو دشمنی نہیں ہے بلکہ اس فتنہ کو روکنا ہے۔مجھے یہ بالکل تسلیم ہے کہ میری ذات سے کسی کو دشمنی نہیں ہے مگر جس چیز کو روکنے کی ساٹھ برس سے ساری دنیا کو ششیں کر چکی ہے وہ نہیں لرکا بڑھ رہا ہے اور دنیا کے ہر ہر گوشہ میں پہنچ گیا اس میں آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور کس چیز کو روکنے کی جس کے متعلق آپ کچھ جانے کا دعوی نہیں کرتے نہ کچھ سننا چاہتے ہیں۔علماء کے فتووں پر دارو مدار ہے۔بہت اچھا آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں مگر کم از کم یہ تو سوچ لیجئے کہ غلط فہمی کی وجہ سے آپ اللہ کے راستہ کو تو نہیں روک رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے میں آپ ان مولویوں کے ہتیار تو نہیں بن گئے ہیں جس میں کامیابی تو ہونی نہیں مگر جو بڑے سخت مواخذہ کا باعث ہوگا۔یاد رہے کہ خاموش رہنا دوسری بات ہے اور ڈائریکٹ مخالفت چیزے دیگر اور یہ بہت ہی خطرناک منزل ہے پھر علاوہ اس کے یہ کہ ہماری قوم میں اس کی روک تھام وہ بھی ہوتی نہیں۔آپ بائیکاٹ کر چکے اس کے بعد بھی میں جہاں ہوئی یہی کر رہا ہوں اور جہاں ہوں گا یہی کروں گا حق بات کہنے سے مجھے کوئی دنیا کی قوت روک نہیں سکتی اس کا تجربہ ہو چکا اور اگر اور بھی کچھ تجربہ