ہماری کہانی — Page 83
۸۳ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے وہ مسلمان ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ مَنْ قَالَ ANANTON TO DANNEL AND ALAWATAN ANLA اور پھر حدیث صحیح ہے کہ جس کو تم کافر کہو گے فهو اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں کافر نہ ہوا تو کہنے والا یقیناً کافر ہوگا۔افسوس اور صد ہزار افسوس ہے کہ مولویوں کے چکر میں آپ جیسا سمجھ دار آدمی پڑ جائے اور کہے کہ ہاں طلاق ہوگئی۔ذرا ان مولوی صاحبان سے یہ تو پو چھٹے کہ جس کتاب سے آپ طلاق کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں اسی کتاب سے کیا تارک الصلواۃ کی بیوری پر طلاق نہیں ہو جاتی۔پھر صرف ہماری ہی قوم میں کتنے ہیں جن کی بیویاں نکاح میں قائم ہیں ؟ برائے خدا جو قومی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کئے ہیں ان سے کام لیجئے اور سو پھٹے کہ کدھر جا رہے ہیں ؟ اللہ اور اس کے رسول کے چودہ سو برس کی پیشین گوئیوں کو نیک نیتی سے جانچنے پر کھنے اور خوب تحقیق کرنے کے بعد میں نے اگر ان کے دعوں کو صحیح تسلیم کیا جس میں مجھے تو ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی شک نہیں مگر بفرض محال اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ آدمی وہ نہیں ہے تو پھر یہ ایک اجتہادی غلطی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔مگر ان غریب مولویوں کے پاس ہے ہی کیا سوائے کفر اور الحاد اور طلاق کے فتووں کے اور ان بے چاروں کا مبلغ علم ہی سوچے کہ نہ ان کو تو راہ کا علم ہے نہ انجیل کا نہ تاریخ عالم سے کچھ تعلق ہے نہ تاریخ اسلام سے نہ قرآن سے کچھ تعلق ہے بلکہ قرآن سے تو ایسے بھاگتے ہیں جیسے شیطان لاحول سے۔ہاں اختلافی حدیثیں اور اقوال الرجال سر پھٹول کے لئے پڑھایا جاتا ہے اور آٹھ سو برس پہلے کی بوسیدہ یونانی منطق اور فلاسفی جس میں لکھا ہے کہ زمین چٹائی کی طرح بچھی ہوئی ہے اور ستارے آسمان میں قندیل کی طرح لٹک رہے ہیں اس کے خلاف جو کہے وہ کافر اور پھر یہ مولوی کس قسم کے لوگ ہیں یہ بھی سن لیجئے کہ دنیا میں جو لڑ کا کسی مصرف کا نہ ہو جس میں پانچ روپیہ بھی مزدوری کمانے کی قابلیت نہ ہو وہ ہندوستان کی