ہماری کہانی

by Other Authors

Page 93 of 124

ہماری کہانی — Page 93

۹۳ ست امی جان نے سوچا۔میں اکیلی کہاں ہوں میرے ساتھ تو اللہ پاک ہے سجدے میں فریاد کی اور اسی سے مدد مانگی۔اللہ پاک نے دل میں ڈالا کہ شربت ، اچار چنی بنا کر بیچو۔چنانچہ امی نے یہی کام شروع کر دیا۔سب نہیں کام کرتیں کہیں دیگچا چڑھا ہے تو کہیں مسالے صاف ہو رہے ہیں۔بہت جلد مانگ بڑھنے لگی۔دوکانوں پر بھی مال جانے لگا۔اخراجات کا مسئلہ حل ہو گیا۔یہ ایک طرح سے پوری میمن جماعت سے ٹکر لینے والی بات تھی۔تنہا بیوہ عورت بغیر ان کے آگے جھکے اپنا گزارا چلا رہی تھی۔احمدی احباب بھی کبھی کبھی عظیم بھیا سے ہمارے حالات کے بارے میں پوچھتے مگر ہماری خود داری کی راج سے کبھی براہ راست ہمیں کسی نے مدد نہیں پہنچائی۔بابا کی وفات کے وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ہمیں کبھی پیٹ بھر کے کھانا بھی نصیب ہوگا۔یہ صرف مسیح موعود کی جماعت میں شمولیت کی برکت تھی۔اس نے ہمیں عربتِ نفس کے ساتھ سہارا دیا۔مجھے یاد ہے آیا رابعہ بہت نیک اور ہمت والی تھیں محنت بھی بہت کرتیں اور دُعا بھی بہت کرتیں۔انہی دنوں شدید بیمار ہوگئیں مگر خدا تعالیٰ نے معجزانہ طور پر نٹی زندگی عطا فرما دی۔ایک دن نیم بے ہوشی میں ایک نظارہ دیکھا کہ بابا نے آکر خوب پیار کیا اور جھک کر کہا تم اچھی ہو جاؤ گی گھبراؤ نہیں اور جس کام کو تم لوگوں نے شروع کیا ہے انشاء اللہ ایک سال کے اندر اتنا نفع ہوگا۔بابا نے خواب میں جو رقم بتائی تھی امی نے نوٹ کر لی۔ٹھیک ایک سال کے بعد حساب کیا تو ٹھیک اتنی ہی رقم کا منافع ہوا تھا جو بابا نے خواب میں بتائی تھی۔احمد للہ۔اس وقت آیا رابعہ سترہ سال کی تھیں۔ریحانہ اتنی چھوٹی تھی کہ باپ کی وفات کا شعور نہ تھا۔اکثر پوچھیتی بابا جان کب آئیں گے ؟ اور عارف تو گودوں میں کھیلتا تھا۔