ہماری کہانی

by Other Authors

Page 28 of 124

ہماری کہانی — Page 28

۲۸ یہ غلط ہے۔میرا تعلق خدا سے ٹوٹنے کے بعد دنیا بھی ہاتھ سے جاتی رہے گی اس میں فائدہ کے بدلے نقصان دنیاوی بہت ہے جو میں خط میں سمجھا نہیں سکتا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھی گئی اور دین بھی اب تم سے اخیر میں میں یہ کہتا ہوں کہ تم لوگ گھبراہٹ پریشانی اور ہیبت دل سے نکال ڈالو اور پورے اطمینان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے دعا کرو۔وہ بہتر صورت پیدا کر دے گا۔اس پر بھروسہ رکھو۔عبد الستار امی ابھی جوان تھیں۔گھر میں بوڑھی دادی ، نو عمر بچیاں اور ایک لڑکا تحفا ی شدید ترین مخالف کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔بابا جان کے لکھنے پر چھوٹا سا مکان تلاش کرنے نکلیں۔میمن قوم میں عور تیں زیادہ باہر نہیں نکلتیں۔پردہ بھی سخت تھا۔ہوا یہ کہ جہاں بھی امی مکان کی تلاش میں پہنچتیں سیٹھ کے کا رند سے منع کر دیتے کہ یہ قادیانی ہے اس کو مکان نہیں دینا۔دوسری حرکت یہ کہ اپنا مکان خالی کرنے کے نوٹس پر نوٹس دینے لگے شیشہ گلی میں ایک مکان دیکھا۔انہوں نے قادیانی ہونے پر تو اعتراض نہ کیا ان کو ترو د تھا تو یہ کہ بابا کو ہارٹ کی بیماری ہے کرایہ کون دے گا۔مایوس ہو کر واپس آنے والے تھے کہ مالک مرکان کی والدہ نے بٹھا کر کچھ تواضع کی۔باتیں چل نکلیں تو بہت سی قربتیں اور جاننے والوں کے آپس میں مراسم نکلے۔ہمارے اٹھنے تک وہ ہمیں مکان دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ساتھ رہے تو خلوص بڑھتا رہا۔اور ہر آنے والا دن پہلے سے بہتر ہوتا گیا۔وہاں منتقل ہو کر محسوس ہوا جیسے آزادی میں سانس لیا ہے۔کوئی محل سے چوسر سے پر آکر خوش نہیں ہوتا مگر ہم کو یہ جگہ بہت اچھی لگی۔بابا کے سفر کی اگلی منزل قادیات