ہماری کہانی — Page 29
۲۹ تھی۔قادیان سے مرسلہ خطوط اس زمانے کی ساری کیفیات کھول کر بیان کرتے ہیں۔ان قادیان مورخہ ۲۰ مئی که میں لکھنو سے اتوار کے روز چلا۔راستہ میں سہارنپور ایک روز ٹھر کے کل دوپہر کو الحمد للہ دار الامان میں پہنچ گیا ہوں۔فالحمدللہ علی ذلک۔اللہ تعالی نے یہ تمنا پوری کر دی مگر یہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب سندھ تشریف لے گئے ہیں۔ہفتہ عشرہ میں واپس آئیں گے۔یہاں پہنچ کر اب بغیر زیارت کئے ہوئے اور دعا کرائے ہوئے واپس نہیں جا سکتا۔لہذا ان کے آنے تک ٹھہرنا ضروری ہے اور بھروں گا۔میں یہاں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور وہ اپنے مہمان کی پوری خبر گیری کرتا ہے۔تم فکر نہ کرنا۔میں کلکتہ کی بہ نسبت بہت اچھی طرح ہوں میری ضرورت کا سارا سامان ہر جگہ اللہ تعالیٰ خود ہی کرتا ہے وہ اس ناچیز یہ بہت مہربان ہے۔ان کے آنے کے بعد کہاں جاؤں گا اور کیا ہوگا یہ صرف اللہ ہی کو معلوم ہے ابھی کوئی پروگرام نہیں ہے مگر اللہ پر بھروسہ ہے کہ جو ہوگا اچھا ہوگا۔ابھی ابھی تمہارے دو خط تاریخ پندرہ اور سترہ کے لکھنو سے سارہ نے بھیج دیتے ہیں۔ہاں ٹھیک ہے تمہارے والد اگر چاہتے تو کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا تھا۔خیر اللہ ہدایت دے اس میں شک نہیں کہ سب ایک طرف ہیں اور ظلم دستم میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں گے مگر تم کو معلوم ہے کہ اللہ دوسری طرف ہے اور وہ ان کے ہر مجمع میں موجود ہے اور یہ اپنا داؤ کر رہے ہیں اور وہ اپنا داؤ کر رہا ہے۔