ہماری کہانی — Page 24
۲۴ خوش ہو سکتا ہے کہ بھائی کو بھائی سے جدا کیا جائے بہن کو بھائی سے جدا کیا جاوے ماں کو بیٹی سے جدا کیا جاوے چھوٹے چھوٹے بچوں کو رلایا جاوے کھپایا جائے، مریضوں کو مرض میں تکلیف دیا جائے ایسا مریض جو زندگی کے باقی دن گن گن کر گزار رہا ہو اس کے ساتھ یہ سلوک ہو کہ وہ ایسی حالت میں اس سفر پر مجبور ہو ، تنگدست ہو ، بیکس ہو پھر اتنا ہی نہیں بلکہ یہ فرق کی تلاش میں جہاں جہاں جائے اس کے پیچھے جاسوس لگے ہوں دیہ فعل مجھے یقین ہے کہ یونس بھائی کا نہیں ہے مگر دوسروں نے ایسا کیا ہے) لڑکیوں کی نسبت تڑا دی جائے شوہروں سے بیویوں کو طلاق دلا دی جائے اور یہ سب کس لئے کہ چند عقائد بدل دیے جائیں اور توبہ کر لی جائے مگر یونس بھائی جیسا سمجھدار اور عقلمند آدمی اگر غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ کبھی بھی دنیا میں جبر سے کسی کے عقائد بدلے جا سکتے ہیں کبھی دنیا کی ہسٹری میں ایسا ہوا ہے۔اگر میرے جیسا مریضین اس سفر میں مرجائے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ خون کس کس کی گردن پر ہوگا۔کاش یونس بھائی اس میں اپنا ہاتھ نہ رنگے اور یہ ثواب قتل مزند کا مولویوں اور علماء کیلئے چھوڑ دیتے۔کاش وہ مجھ سے آدھ گھنٹہ بات کر لیتے۔بہر حال میں ان کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہدایت دیوے اور میرے مولیٰ کریم نے جو کچھ مجھے دکھایا ہے وہ ان ظاہر پرست مولویوں کو تو کیا نظر آئے گا مگر میرے محسن کو وہ دکھا دے۔مهاجر فی سبیل اللہ۔گناہ گار - عبد الستار ہمارے ساتھ یہ ہوا کہ یونس عثمان صاحب کی بیگم جس کا اتھی سے دوستانہ تھا ملنے آئیں تو ان کو خبر ہوگئی کہ بابا نا معلوم منزل کے لئے گھر سے جاچکے ہیں زبر دست طوفان آیا۔میمن جماعت کے بڑوں کے فیصلے کے مطابق ہمیں جماعت سے نکال