ہماری کہانی — Page 25
۲۵ دیا گیا۔دودھ والا ، ڈبل روٹی والا تک ہمارے گھر نہیں آسکتے تھے۔بائیکاٹ کا عام اعلان ہو گیا۔اس مشکل وقت میں صرف دو خواتین ملنے آئیں۔ایک غریب عورت خالہ زینب اور دوسری اتنی کی چچا زاد بہن فاطمہ۔ان کی ساس جن کو خاندان بھر میں بڑی اماں کہا جاتا تھا، نے کہا کہ میں فاطمہ کو زندگی میں بہن سے کیسے جلا کر دوں۔اور فاطمہ کے شوہر علی خالو کو بلا کر دھمکایا گیا کہ تم کو بھی اس کی سزا دی جائے گی۔ایک ماموں ہادی نے بھی تعلق رکھا۔ماموں ہادی اور ان کے سب بھائیوں نے بہت محبت دی۔یہ امی کے چچازاد بھائی تھے۔جبکہ امتی کے ایک ماموں اور خالوؤں نے بدترین طریق سے مخالفت کی۔نانا کو امی سے بے تعلق بارہ سال گزر گئے تھے۔نہ کوئی ملاقات نہ کوئی خط و کتابت۔انہوں نے سیٹھ یونس سے رابطہ کیا اور کلکتہ آگئے۔مجھے یاد ہے کہ میں بھی ہادی ماموں کے ساتھ اسٹیشن پر انہیں لینے گئی تھی۔باپ بیٹی کے ملنے کا منظر بھی مجھے یاد ہے۔سب کا رو رو کر برا حال ہوا۔نانا نے سیٹھ یونس سے مل کر پہلے سے بھی بڑھ کر بابا جان کی مخالفت شروع کر دی۔ان کی نان یہاں آکر ٹوٹی کہ نکاح ختم ہو گیا۔فوراً طلاق دلوائی جائے۔نان نفقہ کا ذمہ دار یکیں ہوں گا۔بڑی بہن عائشہ آپا کے شوہر عظیم بھائی کے پاس بھی سیٹھ کے کارندے گئے کہ عائشہ کو طلاق دے دو۔وہ قادیانی ہو گئی ہے۔عظیم بھائی نے جواب دیا۔در آپ کو کیا۔وہ قادیانی ہو گئی ہے تو میں عیسائی ہو جاتا ہوں۔بات ختم آپ جائیں یہ عظیم بھائی کو دین مذہب کا پتہ نہ تھا۔صرف بابا کی مظلومیت کی وجہ سے ہمدہ دی ہو گئی تھی۔غرضیکہ طلاق پر طلاق کے مطالبے ہو رہے تھے۔بابا کو حالات کا علم ہو رہا تھا۔انہوں نے ایک خط امتی کو لکھا تا کہ تسلی رہے۔اور نانا کو اپنے پاس لکھنو بلایا۔بابا نے لکھا تھا :