ہماری کہانی — Page 110
۱۱۰ جو اس کمپنی میں کبھی دو سو روپے کا ملازم تحفہ ہمیں اس موقع پر بھی دعاؤں کا خوب موقع ملا۔ایک کمرے میں ہم باجماعت نماز ادا کرتے۔آپا رابعہ ان دنوں قادیان جانے کے لئے کلکتہ آئی ہوئی تھیں۔ہم سب فیصلے کے بہتر ہونے کے لئے دعا کرتے۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ ساتھ دیا تھا۔فیصلہ کے بعد سرب سے زیادہ جس کا مستقبل خطرہ میں تھا وہ محمد صاحب تھے۔کیونکہ باقی سب بھائی پاکستان میں قدم جما چکے تھے۔مگر ہوا یہ کہ سب کے جانے کے بعد جب ابو بکر صاحب کو یورپ روانہ کر کے واپس آئے تو مظاہر حسین صاحب کے حکم سے محمد صاحب کو بڑی گاڑی بھیجی گئی اور ملازم کو کہا گیا کہ ہماری گاڑی ورک شاپ پر دے آئے۔اب محسوس ہوا کہ ہمارا خدا ہمارے کس قدر قریب ہے۔کیسا معجزہ کیسا پیار کیسی مدد اس گناہگار کی قادر و توانا خدا نے کی کہ دنیا کے بندوں کو کبھی سمجھ نہیں آسکتی۔ہم مادی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتے ہیں اس سے لاکھوں گنا زیادہ دل کی آنکھوں سے نظر آرہا تھا۔آج بھی خُدا کے قرب کی لذت محسوس ہو رہی ہے۔کسمپرسی میں جب بندے ٹھکرا کر یہ سمجھیں کہ بندہ بے یارو مددگار ہو گیا ہے تو خدا تعالی پیار سے قریب آکر ہا تھ تھام لیتا ہے۔محمد صاحب کے بھائیوں کا اس رقم پر بڑا جھگڑا ہوا جو کمپنی فروخت کر کے ملی تھی جبکہ محمد صاحب کا حصہ بہکا ہی نہیں تھا۔وہ تو ہندوستان ہی میں تھے۔کمپنی کے فروخت ہونے پر احمد صاحب کو علم ہوا کہ محمد صاحب کا حصہ فروخت ہوانہ نوکری گئی۔بہت برا فروختہ ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے چھٹکارے کے لئے یہ سامان کیا۔الحمد للہ 194ء میں ہم نے مولوی سلیم صاحب کے مشورہ سے قادیان اور ریوہ جانے کا پروگرام بنایا۔مسرجن جن کے والد محترم سیٹھ عبداللہ الدین صاحب کا