ہماری کہانی — Page 9
9 محنت سے کام کرنے سے ان کی نیک شہرت ہر طرف پھیل گئی مقبول شخصیت تھے۔بابا کی شادی محترم صالح محمد داؤد صاحب کی بیٹی رضیہ بیگم سے ہوئی جو رشتہ میں بابا کے پھوپھی زاد بھائی کی اکلوتی بیٹی تھیں۔میرے ننھال میں ٹھیٹھ اسلامی شرفاء کا ماحول تھا میری نانی مصاحبہ کا نام مریم بائی المعروف بہ مکیہ بائی بنت حاجی عبد اللہ حاجی عبد الواحد تھا۔میری اماں بابا سے تیرہ سال چھوٹی تھیں میرے بابا کی جوانی کے متعلق اتاں بتائیں کہ بہت امیر تھے۔شوقین بلکہ رنگین مزاج تھے۔خوش خوراک بھی بہت تھے۔جادا میں قیام تھا۔ہیرے جواہرات کی خریداری ان کا مشغلہ تھا۔میری اماں کو بہت زیورات خرید کر دیتے۔پھوپھی جان اور چا زاد بہن کو ایک طرح کا تحفہ دیتے۔ٹھاٹھ کا یہ عالم تھا کہ سب سے قیمتی سامان خرید تے گھر پر آسائش تھا۔گاڑی تھی جس میں فون لگا تھا بسفر جس بھی ذریعے سے کریں فرسٹ کلاس ہوتا۔۲ اگست شاہ کو میری سب سے بڑی بہن عائشہ پیدا ہوئیں۔پھر اللہ پاک نے ۲۴ اپریل ہ کو جاوا میں پیاری بہن رابعہ عنایت فرمائیں۔اور آپا رابعہ کے چھ سال بعد ۲۷ اگست ئہ کو خاکسار پیدا ہوئی رفیعہ نام رکھا گیا۔میری چھوٹی بہن ریحانہ ۲۳ مئی ۹۳ہ کو پیدا ہوئی۔میں پانچ چھ سال کی تھی جب بابا کی پوسٹنگ بہار کے ضلع موتی پور میں ہوگئی۔موتی پور میں بھی بابا کا بڑا وقار اور دیگر یہ تھا اور ہر آسائش تھی مگر وہ سارے خاندان کو اکٹھا رکھنا چاہتے تھے۔اس لئے عالی شان مکان گاڑی، نوکر چاکر کی سب سہولتیں چھوڑ کر کلکتہ میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کر لی گبہ پرور تھے۔بزرگوں کی خدمت احسن رنگ میں کرتے جین خاتون کو ہم دادی کہتے تھے وہ ہماری اصلی دادی نہیں تھیں بلکہ بابا کی سنگی 1914