ہماری کہانی

by Other Authors

Page 10 of 124

ہماری کہانی — Page 10

1- چھی تھیں جن کے سارے خاندان کو گھر کے افراد بنالیا۔ایک چچا تھے سادہ اور غریب مزاج کے۔بابا سے بہت محبت کرتے تھے بابا نے چچیوں ، پھوپھیوں وغیرہ کو امی کے چچا کے پاس ملک پور کی بڑی حویلی میں ان کی سرپرستی میں رکھا اور خود کلکتہ آگئے کلکتہ میں مین جماعت کے صدر یونس سیٹھ صاحب کی بہت بڑی کو ٹھی تھی جس کے چار حصے تھے تین حصوں میں وہ خود رہائش پذیر تھے۔ایک حصہ بابا کو ان کی شرافت کی وجہ سے کرایہ پر دے دیا اور یہ بہت ہی اچھا ہوا کیونکہ خاندان میں بابا کے علاوہ ایک چچا ہی مرد تھے باقی سب خواتین تھیں۔پھوپھیاں بہت پیار کرنے والی تھیں۔بابا کے ایک دوست تھے چھبیل داس اور ان کے چھوٹے بھائی مدن لال تھے۔چھبیل داس صاحب نے مدن لال کو ہمارے بابا کے سپرد کر دیا تھا۔ان کی حیثیت بھی گھر میں بچوں جیسی تھی۔امی جان پردہ کرتی تھیں وہ گھر میں آواز دے کر آتا۔امی اوٹ میں ہو جاتیں۔وہ سارے گھر میں بچوں کے ساتھ کھیلتا۔بے تکلفی کا عالم یہ تھا کہ فریج میں رکھی ہوئی ڈشیں بھی صاف کر جاتا۔گوشت اسے بہت مرغوب تھا۔امی کہیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتیں تو عام رہائش کے انداز میں بہت زیادہ فرق ہونے کے باوجود بڑے اخلاق سے ملتیں منکسر المزاج تھیں۔رشتہ دار بھی بہت عزت و تکریم کرتے۔خاندان کلکتہ میں منتقل ہو چکا تھا۔اس طرف سے بے فکری تھی لیکن بابا کو ملازمت میں اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا۔ان نتھک محنت کی وجہ سے مل کا مالک سیٹھ عبدالرحیم عثمان عزت تو کرتا تھا مگر حقوق کی ادائیگی میں ڈنڈی مار جاتا جس سے بد دلی ہوتی۔ایک اور مسئلہ کھڑا ہوا کہ میمن قوم کے ہی ایک اور سیٹھ سلیمان احمد کی ذاتی مل تھی۔وہ کسی دوسرے کو جمنے کے مواقع نہ دیتا۔بابا