ہماری کہانی

by Other Authors

Page 105 of 124

ہماری کہانی — Page 105

1۔0 دیکھنا اس کی موت غسلخانہ میں ہوگی " یہ بات 1954ء میں میرے منہ سے " نکلی تھی مگر خدا کی شان کہ سترہ اٹھارہ سال بعد عبد الکریم صاحب کی وفات اس طرح ہوئی کہ غسلخانہ گئے۔جب نہ نکلے تو دروازہ توڑا گیا اور اندر سے لاش نکلی سینکڑوں لوگوں کی زبان پر تھا۔یونس عثمان کا بھتیجا عبد الکریم مسلمانہ میں بند مر گیا اور دروازہ اندر سے لاک ہونے کی وجہ سے بہت مشہوری ہوئی۔فاعتبروا يا أولى الابصار۔اب ہم کو فکر تھی کہ کسی طرح اپنے اپنے شوہروں کو بھی پر امن دائرہ احمدیت میں لانے کی کوشش کریں۔1990ء تک جب میرا دوسرا بیٹا اعجاز احمد پیدا ہوا حالات کچھ اس طرح تھے کہ خاندان ہندوستان اور کاروبارکھلنا میں ہوتے کی وجہ سے محمد صاحب کا ایک پاؤں کھلنا میں ہوتا تو ایک کلکتہ ہیں۔کھلنا میں کاروبار جم جانے سے بھیا وہاں عیش و عشرت میں کھو گئے اور ہمیں پاکستان لانے کی فکر نہ کی۔میں نے ہمت کی اور باجی کو ڈھاکہ میں خط اور فون سے آمادہ کر لیا کہ ہم قادیان اور ربوہ کی مقدس بستیاں دیکھنے چلیں۔اس طرح ہمارے شوہروں کو بھی احمدیت کی صداقت کا علم ہوگا۔میں نے احمدی بھائیوں منشی شمس الدین صاحب اور سلیم صاحب سے فون پر گزارش کی کہ میرے شوہر کو آہستہ آہستہ پیار ومحبت کے تعلقات بڑھا کر احمدیت کی تعلیم دیں۔احمدیت کے تعلقات حقیقی رشتوں سے بڑھ کر ہو گئے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے بہت پیار کرنے والے ساتھی دیئے محترمہ آپا نمیره بیگم صاجزادہ مرزا ظفر احمد صاحب، میجر اسماعیل صاحب نرائن گنج میں ابوالہاشم کی بیٹی مسعودہ صاحبہ ، بھائی النصر صاحب ، مومنہ آپا صاحبہ، آمنہ آپا صاحبہ اور بہت سی دوسری بہنیں جو دلداری کرتیں اور بہنا یا ہو گیا۔شاہ میں باجی اور عظیم بھائی ربوہ گئے مگر میں نہ جاسکی۔ربوہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی