ہماری کہانی

by Other Authors

Page 106 of 124

ہماری کہانی — Page 106

1۔4 سے ملاقات کا وقت لیا گیا۔عظیم بھیا نے مصافحہ کے لئے حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے۔پھر وہ ہاتھ تا حیات اس مقدس ہاتھ کے مس سے بیعت کا ہا تخذ بن گیا۔ہے جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار عظیم بھیا نے ہمارا اس وقت ساتھ دیا تھا جب اور کوئی ہمارا حمائتی نہ تھا۔بابا کی خدمت کر کے دعائیں لی تھیں پھر امی کی آخری وقت تک خدمت کی تھی۔آیا زکیہ ریحانہ اور عارف کی سرپرستی باپ بن کر کی تھی عہد بہت بھی پوری دنا سے نبھایا۔باجی اور بھیا کھلے بندوں دعوت الی اللہ کا کام کرتے تھے۔اب وہ اس دنیا میں نہیں۔خدا تعالیٰ ہمارے دل کی دعائیں قبول فرمائے اور انہیں اجریم بر عظیم عطا فرماتا چلا جائے۔آمین۔اگر میں باجی کے ساتھ ربوہ چلی جاتی تو بہت مشکل پیش آتی کیونکہ ہم احمدی تو تھے مگر کاروباری تعلقات میں مکس پارٹیاں اور دعوتیں چلتی تھیں باجی نے آکر جو نظارہ بنایا اس سے اپنی اصلاح کی طرف توجہ ہوئی جینا کانگ میں ہماری مسجد چوک بازار میں تھی۔میں جمعہ وغیرہ میں ضرور جاتی سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کے داماد محمودالحسن صاحب اور مریم صاحبہ بیگم داؤد کی مہر بانی کہ گاڑی بھیج دیتے۔مسجد کے قریب بڑی اماں کا مکان تھا۔وہاں جاتے اور خاندان کے افراد کو خوب دعوت الی اللہ دیتے۔محمد صاحب سب جانتے تھے میرا جمعہ اور اجلاسوں میں جانا۔چندہ دینا کسی چیز سے اختلاف نہ تھا۔اختلاف تھا تو پردہ سے۔بڑی سختی سے کہتے کہ تم کبھی سوچنا بھی نہیں کہ پردہ کرو گی۔ایک یہ مسئلہ تھا۔دوسرا مسئلہ کاروبار کا آپڑا کہ پاکستان میں کاروبار خوب ترقی پر تھا جبکہ کلکتہ می ماند پڑگیا۔اس موقعہ پر مریم بہن نے سگی بہنوں سے بڑھ کر سلوک کیا اور بڑے بھیا کو سمجھایا