ہمارا خدا — Page 180
ہرگز کوئی مذہبی سوال نہ تھا بلکہ محض سیاسی بنا پر یہ سارا گشت وخون وقوع میں آیا اور یہ گشت وخون بھی ایسا تھا کہ جو اپنی وسعت اور تباہی کے لحاظ سے دُنیا کی تاریخ میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔اب سیاست بھی چھوڑ دو کیونکہ وہ بعض اوقات جنگ کا موجب ہو جاتی ہے۔میرے عزیزو! یہ سب نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں۔مذہب کو ہرگز کوئی خاص رشتہ تنگ خیالی یا جنگ و جدال سے نہیں ہے بلکہ جس طرح دُنیا میں اور اور باتیں اقوام و افراد کے درمیان امن شکنی کا موجب ہو جاتی ہیں اسی طرح ( گودرجہ میں ان سے بہت کم ) کبھی کبھی مذہبی اختلاف بھی اس کا موجب ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی مذہب میں یہ خصوصیت ہے کہ وہ صرف اُسی وقت اس کا موجب ہوتا ہے کہ جبکہ لوگ مذہب کی حقیقت سے دُور جاپڑتے ہیں۔جیسا کہ مثلاً ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود اور مشرکین عرب نے مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے محض ظلم اور تعدی کے طور پر بیگناہ مسلمانوں کے خلاف جنگ برپا کر دی اور پھر مسلمانوں کو بھی خود حفاظتی اور قیام امن کی غرض سے تلوار کا جواب تلوار سے دینا پڑا اور اس طرح ملک میں جنگ کی صورت پیدا ہوگئی جس کے ذمہ وار کلیتہ مذہب کی حقیقت اور غرض و غایت کو نہ سمجھنے والے مشرکین و یہود تھے اور مسلمانوں کی طرف سے یہ جنگ صرف قیامِ امن کی غرض سے تھی۔الغرض یہ ایک نہایت لغو اور بیہودہ خیال ہے کہ مذہب جنگ اور فتنہ و فساد کا موجب ہوتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ مذہب ہی وہ طاقت ہے جو کما حقہ فتنہ وفساد کا سد باب کر سکتی ہے اور مذہب کی حقیقت سے دُور ہونا امن شکنی اور فتنہ کا باعث ہو جاتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ مذہبی اختلافات جنگ وجدال کا موجب ہوتا ہے تو پھر بھی معترضین کو یہ حق نہیں کہ اس بنا پر مذہب سے 180