ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 173 of 255

ہمارا خدا — Page 173

پر وہ حسنِ سلوک کا طریق اختیار کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اس لئے ہمدردی اور تعاون کا برتاؤ کرتا ہے تا کہ اُس کے نتیجہ میں لوگ بھی اس کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا طریق اختیار کریں۔اور ہر چند کہ اس صورت کا نتیجہ بھی ایک حد تک مفید اور نفع بخش ہی ہوتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایک خود غرضانہ صورت کو اس اعلیٰ اور اشرف مقام سے کچھ بھی نسبت نہیں کہ جس میں ایک طبعی اور فطری جذبہ کے طور پر لوگوں کے درمیان اخوت و وحدت کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور یہ فطری جذ بہ جو اخوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے بغیر ایمان باللہ کے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا۔کیا مذہب دنیا میں جنگ وجدال کا موجب ہے؟ پیشتر اس کے کہ میں ایمان باللہ کا دوسرا فائدہ بیان کروں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے جو بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دُنیا میں مذہب کا وجود باہم جنگ وجدال اور فتنہ وفساد اور فرقہ بندیوں کا موجب ہے۔کیونکہ مذہب انسان کے اندر تنگ خیالی اور کم حوصلگی پیدا کرتا ہے جودُ نیا میں قیام امن اور نسل انسانی کی ترقی و بہبودی کے لئے سم قاتل ہے اس لئے لوگوں کو مذہب کی قیود سے آزاد ہونے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ وسعت خیالی پیدا ہو اور لوگ آپس میں محبت اور امن کے ساتھ رہ سکیں اور چونکہ مذہب خدا کے خیال کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اس لئے ہمیں ساتھ ہی ایسے خدا کو بھی خیر باد کہنا چاہئے جس کا خیال دنیا میں فتنہ وفساد کا باعث ہے۔یہ وہ اعتراض ہے جو آجکل کے نو تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے کیا جاتا ہے اور جس پر یورپ کے مدبرین بھی بہت زور دیتے ہیں۔لیکن اگر ہم ذرا غور سے کام لیں تو یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ یہ اعتراض محض قلت تذبر کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔مگر اصل جواب دینے سے قبل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم اس اعتراض کو درست بھی مان لیں یعنی 173