ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 174 of 255

ہمارا خدا — Page 174

اس بات کو تسلیم بھی کرلیں کہ واقعی مذہب کا وہی نتیجہ ہے جو بیان کیا جاتا ہے پھر بھی اس سے خدا کے موجود ہونے کے خلاف کوئی استدلال نہیں ہوسکتا۔یعنی اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس دُنیا کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت دُنیا ہو سکے گا کہ خدا کا عقیدہ تنگ خیالی اور امن شکنی کا موجب ہے۔لیکن اگر واقعی کوئی خدا موجود ہے تو پھر اُس کا ماننا خواہ کچھ بھی نتیجہ پیدا کرے ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم اسکے موجود ہونے سے ہی انکار کر دیں۔پس اگر خدا کا موجود ہونا ثابت ہے تو پھر خواہ مذہب فتنہ وفساد کا ہی موجب ہو ہم خدا کے موجود ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔لیکن حق یہ ہے کہ یہ بات ہی غلط اور باطل ہے کہ مذہب فتنہ وفساد کا موجب ہوتا ہے اور جن لوگوں نے ایسا نتیجہ نکالا ہے انہوں نے خطر ناک غلطی کھائی ہے۔ہم ابھی ابھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ خدا کا خیال طبعا اور فطر تا لوگوں کے دلوں میں باہم محبت و اخوت کے جذبات پیدا کرتا ہے اور تمام قومی اور ملکی اور نسلی تعصبات کو مٹاکر ایک عالمگیر اخوت انسانی کا خیال قائم کرنے کا موجب ہے بلکہ ایمان باللہ کے بغیر اس عالمگیر اخوت کا خیال پیدا ہونا ہی ناممکن ہے۔پس یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا کا عقیدہ فتنہ وفساد اور تنگ خیالی کا موجب ہو؟ فتنہ وفساد اور تنگ خیالی کے پیدا ہونے کو ہرگز کوئی طبعی تعلق خدا کے خیال سے نہیں ہے اور عقلِ انسانی ایک لمحہ کے لئے بھی اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ خدا کے خیال کا نتیجہ ہاں ایسے خدا کے خیال کا نتیجہ جسے انسان کوئی قومی یا ملکی یا نسلی خدا نہ سمجھتا ہو بلکہ تمام بنی نوع آدم کا مشتر کہ خالق و مالک خدا قرار دیتا ہو تنگ خیالی اور تعصبات قومی اور جنگ وجدال اور فرقہ بندی کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔کوئی صحیح الدماغ شخص ان دو باتوں میں سبب اور مستقب کا کوئی طبعی رشتہ دریافت نہیں کر سکتا۔پس اگر واقعی مذاہب کا وجود فتنہ وفساد اور تنگ خیالی اور تعصبات ملی کا موجب ہے تو ہمیں کسی دوسری جگہ اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ 174