ہمارا خدا — Page 172
اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اور جتنے بھی موجبات وحدت ہیں وہ گو ایک حد تک تعاون اور ہمدردی اور قربانی کی رُوح پیدا کر دیں، لیکن اخوت انسانی کا جذ بہ وہ کسی صورت میں بھی پیدا نہیں کر سکتے کیونکہ اخوت کا جذبہ یعنی یہ خیال کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں سوائے اس کے اور کسی صورت میں پیدا نہیں ہوسکتا کہ انسان کے او پر ایک واحد خالق و مالک و آقا کے وجود کو تسلیم کیا جائے کیونکہ اخوت کے معنے ہی یہ ہیں کہ ہم سب ایک منبع سے نکلی ہوئی ہستیاں ہیں۔لہذا اور اسباب خواہ کتنی بڑی حد تک بھی افراد و اقوام کے درمیان تعاون و ہمدردی کارشتہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ان کے نتیجہ میں اخوت کا جذبہ کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔پس اس لحاظ سے بھی ایمان باللہ کی ضرورت اور اس کا مفید ہونا ثابت ہے۔ظاہر ہے کہ جب تک نسلِ انسانی میں اخوت اور وحدت کا جذبہ فطری طور پر پیدا نہ ہو جائے اس وقت تک ان کا ظاہری اتحاد اور تعاون اس قابل نہیں ہوتا کہ اس پر کوئی اعتماد کیا جا سکے بلکہ اس صورت میں ہر وقت اس بات کا اندیشہ رہے گا کہ جب کبھی بھی ذرا کسی کی مرضی کے خلاف کوئی بات ہوگی تو فوراً خود غرضی کے خیالات غالب آ کر بغض و عداوت کا رنگ پیدا کر دینگے۔دنیا کا امن یقیناً اس وقت تک سخت خطرہ میں ہے جب تک کہ لوگ ایک زندہ حقیقت کے طور پر اپنے اندر یہ ایمان قائم نہ کر لیں کہ ہمارے اوپر ایک واحد خدا ہے جو ہمارا خالق و مالک ہے اور اس لئے ہم سب کو بھائی بھائی بن کر رہنا چاہئے اور اگر کبھی ہمارے اندر اختلاف بھی پیدا ہوتو ہمیں انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا چاہئے بلکہ ایک دوسرے کی خاطر قربانی اور ایثار کا طریق اختیار کرنا چاہئے۔دراصل غور سے دیکھا جائے تو ضابطہ اور معاملہ کے تعلقات محض خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ انسان محسوس کرتا ہے کہ اگر میں دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات نہ رکھونگا تو دوسرے بھی میرے ساتھ اچھی طرح پیش نہ آئیں گے اور اس طرح میرے مفاد کو نقصان پہنچے گا۔اور اس لئے خود حفاظتی کے طور 172