ہمارا خدا — Page 68
پیدائش کو ایک علیم اور قد مر اور حکیم اور متصرف ہستی کی طرف منسوب کرے لیکن جب ہم کسی ایک چیز کے مختلف حصوں کے آپس کے تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں یا مختلف چیزوں کے باہمی تعلقات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر یہ دلیل اور بھی زیادہ روشن ہوکر ہمارے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔مثلاً ہم اونٹ کو لیتے ہیں اور بالفرض پر مان لیتے ہیں کہ قانون قدرت کے کسی مخفی اور غیر معلوم قاعدہ کے ماتحت اس کو لمبی ٹانگیں مل گئیں۔یعنی اونٹ کی لمبی ٹانگوں کا ملنا نیچر کے کسی قانون کا نتیجہ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس اندھے قانون کو یہ کیسے پتہ لگ گیا کہ اب جو میں نے اسے لمبی ٹانگیں دی ہیں تو اس کی گردن بھی لمبی بنانی چاہئے تا کہ اس کا منہ آسانی کے ساتھ زمین تک پہنچ سکے۔اور پھر صرف اونٹ میں ہی نہیں بلکہ ہر جانور میں یہی حکیمانہ قاعدہ جاری کر دیا کہ جہاں کسی مصلحت سے ٹانگیں لمبی دی جائیں وہاں گردن بھی لمبی ہو اور جہاں ٹانگیں چھوٹی ہوں وہاں گردن بھی چھوٹی ہو۔کہا جاسکتا ہے کہ یہ لمبے عرصہ کے حالات کا طبعی نتیجہ ہے کہ لبی ٹانگوں کی وجہ سے گردن بھی آہستہ آہستہ لمبی ہو جاتی ہے مگر یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ دنیا میں حیات حیوانی کی تاریخ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی کہ لمبی ٹانگوں والے جانوروں کی گردنیں پہلے چھوٹی ہوا کرتی تھیں اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ لمبی ہو گئیں۔اور پھر اس بات کا بھی کیا جواب ہے کہ لمبی ٹانگوں والے جانور شروع میں جبکہ اُن کی گردنیں چھوٹی ہوتی تھیں کس طرح گزارہ کرتے تھے؟ بہر حال یہ صرف ایک موٹی مثال ہے ورنہ غور کیا جائے تو دُنیا میں ہر چیز کے مختلف حصے اس تناسب اور موزونیت کے ساتھ باہم جوڑے گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پھر ذرا آگے چلیں تو اس سے بھی بڑھ کر عجیب و غریب اور دلکش منظر نظر آتا ہے۔قانونِ قدرت کے کسی اتفاقی کرشمہ نے مرد کی پشت میں نسلِ انسانی کے کیڑے پیدا کر دیئے۔اور پھر اس قانون نے ہی مرد اور عورت کے اندر یہ خواہش پیدا کر دی کہ وہ ایک 68