ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 67 of 255

ہمارا خدا — Page 67

اپنے کام کے لحاظ سے اپنے اپنے حلقہ کے اندر محصور ہے اور اپنے حلقہ سے باہر نکل جانے کی کسی کو طاقت نہیں اور پھر ہر چیز ایک خاص غرض و مقصد کو پورا کر رہی ہے۔آب غور کرو اور سوچو کہ کیا یہ عظیم الشان نظام جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز باہر نہیں خود بخود اپنے آپ سے ہے؟ کیا یہ حکیمانہ قانون جو ہر چیز میں کام کرتا نظر آرہا ہے خود بخود بغیر کسی بالا ہستی کے تصرف کے جاری ہے؟ کیا یہ زمین مع اپنی لا تعداد مخلوقات کے اور یہ آسمان مع اپنے بے شمار اجرام کے اپنے خالق اور اپنے رب آپ ہی ہیں؟ اس وقت اس سوال کو چھوڑو کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ کون ہے اور کہاں ہے؟ صرف اس بات کا جواب دو کہ کیا تمہارا دل اس بات پر اطمینان پاتا ہے کہ یہ کائنات اور یہ نظام بغیر کسی خالق ، بغیر کسی رب، بغیر کسی مالک، بغیر کسی متصرف کے، خود بخود اپنے آپ سے ہے؟ میں یہ نہیں پوچھتا کہ تم کسی خدا پر ایمان لاتے ہو یا نہیں بلکہ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا تم دیانتداری کے ساتھ کہہ سکتے ہو کہ یہ زمین یہ آسمان یہ حیوانات یہ نباتات یہ جمادات یہ اجرام سماوی یہ طبقات ارضی محض اتفاق کا نتیجہ ہیں؟ کیا یہ عظیم الشان نظام جس نے دنیا کی اربوں چیزوں کو ایک لڑی میں پرورکھا ہے بغیر کسی خالق اور متصرف کے خود بخود چل رہا ہے؟ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص جو آدم کی اولاد سے ہے اور دل ودماغ رکھتا ہے اس بات پر تسلی پاسکتا ہے کہ یہ کائنات جو اس قد رگونا گوں عجائبات کا مجموعہ ہے خود بخود اپنے آپ سے ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ تمام کائنات مع اپنے حکیمانہ نظام کے خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایک ایسی زبر دست دلیل ہے کہ کوئی عقلمند شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔اس وقت تک میں نے دنیا کی مختلف چیزوں اور اُن کے حصوں کو انفرادی صورت میں لیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اپنی ذات میں ایسی عجیب و غریب ہستی ہے اور ایسے حکیمانہ قانون کے ماتحت چل رہی ہے کہ انسان مجبور ہوتا ہے کہ دُنیا کی 67