ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 69 of 255

ہمارا خدا — Page 69

جگہ جمع ہوں اور اُسی نے ہی مرد کی پشت کے وہ کیڑے عورت کے تاریک و تار رحم میں پہنچا دیئے اور پھر اسی قانون نے ہی نو ماہ تک اُن میں سے ایک کیڑے کو منتخب کر کے اس کی تربیت کی اور اُسے ایک دل و دماغ رکھنے والا خوبصورت شکل کا بچہ بنا دیا اور پھر اُسی نے ہی اُس بچے کو ماں کے پیٹ سے باہر نکالا۔گویا کہ اُس کیڑے کے اندرونی تغیرات سب اسی اتفاقی قانونِ قدرت کے ماتحت وقوع میں آگئے۔مگر خدارا مجھے یہ سمجھا دو کہ اس اندھے قانون کو کہاں سے سوجھی کہ جب وہ بچہ ماں کے رحم سے باہر آنیوالا ہوا تو اُس نے اُس کی خوراک کے واسطے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کر دیا تا پیشتر اس کے کہ بچہ اس دنیا کی روشنی دیکھے اُس کی خوراک پہلے سے دنیا میں موجود ہو۔ماں کی چھاتیاں تو بچے کے جسم کا حصہ نہیں پھر یہ کیسے ہوا کہ بچے کی خاطر دوسری جگہ ماں کی چھاتیاں اُبھرنی شروع ہو گئیں۔سبحان اللهِ ، مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ پھر اور سنو۔زمین خود بخود پیدا ہوگئی۔اُس پر چلنے پھرنے والی چیزیں بھی خود بخود پیدا ہوگئیں۔انسان بھی اپنے آپ نیست سے ہست میں آ گیا۔اُس کے ناک کان آنکھ سب خود بخود ظاہر ہو گئے۔الغرض یہ سب کچھ کسی اتفاقی قانون کے نتیجے میں ہو گیا، لیکن یہ کس طرح ہوا کہ آنکھوں میں جو دیکھنے کی طاقت تھی اُس کے ظاہر کرنے کے لئے اس قانون نے نو کروڑ میل کے فاصلہ پر ایک عظیم الشان چراغ بھی روشن کر دیا تا کہ اس کی روشنی زمین پر پہنچے اور پھر انسانی آنکھ اپنی قوت بینائی کو استعمال کر سکے۔درخت تو زمین پر اگ آیا۔اس کے تخم بھی پیدا ہو گئے اور ختم زمین پر گرا کر بوئے بھی گئے لیکن یہ کس نے سوچا کہ ان تخموں کے اُگنے کے واسطے پانی کی بھی ضرورت ہے۔اور پھر یہ کس نے انتظام کیا کہ سمندر پر سورج کی شعاعیں گرائیں اور وہاں سے کروڑوں ٹن پانی اُٹھا کر ہواؤں کے ذریعہ زمین کے جھلتے ہوئے میدانوں تک پہنچا دیا اور پھر وہاں ا سورة الحج - آیت 75 69