ہمارا خدا — Page 43
کسی خالق و مالک کے خود بخود کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوسکتا وغیر ذالک۔اور دوسرا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ واقعی وہ خالق و مالک موجود بھی ہے اور اُس کی یہ یہ صفات ہیں اور اس تک انسان اس طرح پہنچ سکتا ہے۔گویا ایک مرتبہ ہونا چاہیے کا ہے اور دوسرا ہے کا۔6 اب خوب سوچ لو کہ مجر وعقل کبھی بھی ہمیں ” ہے“ کے مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی بلکہ اس کا کام صرف اس قدر ہے کہ وہ خدا کے متعلق ہونا چاہئے“ تک کا یقین ہمارے اندر پیدا کر دے۔گویا اگر غور کیا جائے تو مجر و عقل ہمارے اندر خدا کے متعلق ایمان نہیں پیدا کر سکتی مگر ہمیں ایمان کے لئے تیار کر سکتی ہے۔وہ ہمیں خدا دکھا نہیں سکتی مگر خدا کی طرف دُور سے اشارہ کر سکتی ہے۔وہ ہمیں خُدا سے ملا نہیں سکتی مگر خدا کی ملاقات کا دروازہ ہمارے لئے کھول سکتی ہے۔وہ ہمارے اندر اطمینان نہیں پیدا کر سکتی لیکن اطمینان حاصل کرنے کے لئے جس تڑپ کی ضرورت ہے وہ ہمیں عطا کرسکتی ہے۔وہ ہمارے دلوں میں خدا کے متعلق یقین نہیں پیدا کر سکتی لیکن یہ یقین ضرور پیدا کر سکتی ہے کہ کوئی خُدا ہونا چاہئے۔اس سے آگے لے جانا مجزر د عقل کا کام نہیں کیونکہ اس مقام پر پہنچ کر عقل کے سامنے لا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ( یعنی بصارت انسانی خدا کا ادراک نہیں کر سکتی ) کا آہنی دروازہ روک ہو جاتا ہے جہاں فرشتوں کا پہرہ ہے اور جب تک عقل کے پاس خدائی دربار کا خاص پاسپورٹ نہ ہو وہ آگے نہیں گزر سکتی۔یا یوں سمجھو کہ عقل کی محدود نظر ” ہونا چاہئے کے مقام تک پہنچ کر رک جاتی ہے اور پھر جب تک خدا کی طرف سے اُسے ایک خاص عینک نہ عطا کی جائے وہ آگے نہیں گزر سکتی۔لیکن جب اُسے یہ خدائی عینک مل جاتی ہے تو پھر ایسا ہوتا ہے کہ گویا تمام پردے جو رستہ میں روک ہوتے ہیں پھٹ جاتے ہیں اور وہی نظر جو اس سے قبل در ماندہ ہوکر واپس لوٹ لوٹ جاتی تھی اب سیدھی خالق ہستی کے منور چہرہ پر پڑنی شروع ہوتی ہے اور جوں جوں 43