ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 255

ہمارا خدا — Page 42

طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں بار بار لوگوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اس کا ئنات اور زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات پر غور کرو اور سوچو کہ کیا یہ سب کارخانہ عالم مع اپنے حکیمانہ نظام کے محض اتفاق کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ سارا نظام عالم پکار پکار کر بتا رہا ہے کہ ضرور اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔گویا اس طرح قرآن شریف انسان کو بار بار ہستی باری تعالے کے سوال پر غور کرنے اور مخلوق کے مطالعہ سے خالق کی ہستی کا پتہ لگانے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ طریق استدلال ایسا ہے کہ اس کے متعلق محض عقل ہی کافی ہے، کسی آسمانی مؤید کی ضرورت نہیں حالانکہ آیت محولہ بالا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کا ادراک انسانی بصارت کی طاقت سے باہر ہے اور اسی لئے خدا خود آسمان سے ایسا انتظام فرماتا ہے کہ جس کی مدد سے انسان خدا کا علم اور عرفان حاصل کر سکے اور یہ دونوں باتیں بظاہر ایک قسم کے تضاد کا رنگ رکھتی ہیں مگر غور کیا جائے تو یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔یعنی یہ بھی درست ہے کہ انسان عقل کی امداد سے خدا کی طرف راہ پا سکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ مجر د عقل خدا کا علم اور عرفان حاصل نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ خود آسمان سے آیات اور مؤیدات کے ذریعہ اُس کی مدد فرمائے۔اس عقدہ کا حل اس طرح پر ہے کہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے ایمان باللہ دو درجوں میں منقسم ہے۔ابتدائی درجہ وہ ہے جس کا حصول مجزر و عقل کی امداد سے ممکن ہے اور دوسرا درجہ وہ ہے ( اور دراصل شرعی اصطلاح میں ایمان باللہ اسی درجہ کا نام ہے ) جس کا حصول مجر د عقل سے ممکن نہیں بلکہ اس کے واسطے عقل کی امداد کے لئے خدا کی طرف سے خود خاص انتظام ہوتا ہے۔پہلا درجہ ایمان کا جو عقل سے حاصل ہوسکتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ ہم عقلی دلائل سے اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ اس کائنات عالم کا کوئی خالق و مالک ہونا چاہئے کیونکہ یہ سب کچھ جو ہم زمین و آسمان میں دیکھتے ہیں بغیر 42