ہمارا خدا — Page 237
پھر لطف یہ ہے کہ یہ سارے امکانات اگر انہیں درست بھی تسلیم کر اپنے مقابل کے امکانات کے سامنے بالکل کمزور اور بعید از قیاس حیثیت رکھتے ہیں۔مثلاً اگر یہ درست بھی ہو کہ ایک بیٹا بعض حالات میں امکانی طور پر اپنے باپ کے متعلق رقابت کے جذبات پیدا کر سکتا ہے تو پھر بھی یہ ظاہر ہے اور دنیا میں ہمارا عملی تجر بہ اس پر شاہد ہے کہ یہ صورت نہایت درجہ شاذ طور پر پیدا ہوتی ہے اور بیشتر بلکہ کثیر طور پر بیشتر صورتوں میں طبعی طریق یہی ہے کہ بیٹا ہر حال میں اپنے باپ کا محب اور وفادار رہتا ہے اور اگر وہ علمی یا عملی میدان میں اپنے باپ سے آگے بھی نکل جاتا ہے تو پھر بھی اس کی فطری محبت اور فطری وفاداری اُس کی آنکھوں کو باپ کے سامنے ہمیشہ نیچا رکھتی ہے۔پس مزعومہ امکان نہایت ہی بعید از قیاس ہے اور یہی حال مغربی محققین کے دوسرے مزعومہ امکانات کا ہے۔پس عام حالات میں رقابت اور ذہنی خلا کا نظریہ ایک خیالی بت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا جسے توڑنے کے لئے کسی زیادہ ٹھوکر کی ضرورت نہیں۔ایک طبعی اور فطری شاہراہ کو چھوڑ کر جو اپنے پہلو میں ایک آدھ غیر طبعی پگڈنڈی کی استثناء سے زیادہ نہیں پیش کر سکتا ایک دُور اُفتادہ فرضی امکان کی آڑ لے کر خدا کی ہستی کا انکار کرنا جسے جیسا کہ ہم قبولیت عامہ اور شہادت صالحین کی بحثوں میں ثابت کر چکے ہیں (دیکھو کتاب ہذا صفحہ 143 تا 148 ) ، ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں تسلیم کیا گیا ہے خواہش نفس (Wishful Thinking) کے سوا کچھ نہیں۔اور صاف نظر آ رہا ہے کہ جن لوگوں نے یہ دلیلیں پیش کی ہیں انہوں نے اپنے مادی ماحول میں خُدا کی ہستی کا انکار پہلے کیا ہے اور دلیلیں بعد میں سوچی ہیں۔حق یہ ہے کہ جس احساس کمتری (Inferiority Complex) کو بعض محققین نے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف دلیل قرار دیا ہے وہ دراصل خدا کی ہستی کی ایک اس ایڈیشن کے صفحات 120 تا 148 (پبلشرز ) 237