ہمارا خدا — Page 236
بہر حال یہ سارا قصہ صرف ”اے روسٹی طبع تو بر من بلاشدی کا کرشمہ نظر آتا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔مشکل یہ ہے کہ بعض اوقات سمجھدار لوگ بھی امکان اور واقعہ میں فرق نہیں کرتے۔وہ اپنے ذہنی تگ ودو کے نتیجہ میں ایک بات کے امکان کی وجوہات تلاش کرتے ہیں اور جب بزعم خود وہ اس خیال پر قائم ہو جاتے ہیں کہ فلاں بات امکانی طور پر اس اس رنگ میں ہو سکتی ہے تو پھر بسا اوقات آنکھ بند کر کے اس نتیجہ کی طرف کود جاتے ہیں کہ بس وہ اسی طرح ہوئی ہوگی۔حالانکہ ظاہر ہے کہ ایک بات کا امکان اور چیز ہے اور اس کا عملاً وقوع میں آنا اور چیز ہے۔دُنیا میں لاکھوں باتوں کا امکان موجود ہے، مگر ان میں سے کتنی ہیں جو عملاً بھی اسی طرح وقوع میں آتی ہیں جس طرح عقلی رنگ میں ان کا امکان سمجھا جا سکتا ہے۔پس محض کسی بات کے امکان سے اس کے عملاً وقوع میں آنے کا استدلال کرنا ایک نادانی کا استدلال ہے۔لہذا پہلا جواب تو اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے کہ ایک بیٹے کے دل میں کبھی کبھی غیر محسوس طور پر اپنے باپ کے متعلق رقابت کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اور بالفرض یہ بات بھی تسلیم کر لی جائے کہ ان رقابتی جذبات کے نتیجہ میں وہ بڑے ہو کر کبھی کبھی اپنے ذہن میں ایک کمی اور خلا محسوس کر سکتا ہے کیونکہ اُسے اپنے بچپن والے باپ کے تصور کی تلاش رہتی ہے اور پھر بالفرض یہ خیال بھی قبول کر لیا جائے کہ یہ ذہنی خلا اُسے کبھی کبھی کسی بالا ہستی کے تصور کی طرف لے جاسکتا ہے جو اس کے لئے باپ کے تصور کی قائم مقام ہو سکے تو باوجود ان دُور اُفتادہ امکانات کے یہ بات کیسے ثابت ہو گئی کہ دُنیا کی تمام قوموں میں جو دُنیا کے مختلف حصوں اور مختلف زمانوں میں گذری ہیں اور جو کم از کم ابتدائی زمانہ میں ایک دوسرے سے انتہائی حجاب اور دُوری کی حالت میں پڑی ہوئی تھیں ہمیشہ بلا استثناء یہی امکانی صورت عملاً بھی اسی تفصیل کے ساتھ وقوع میں آتی رہی ہے؟ 236