ہمارا خدا — Page 238
بھاری دلیل ہے جسے مسلمان محقق اوائل سے خدا تعالے کی ہستی کے ثبوت میں پیش کرتے آئے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کا مشہور قول ہے کہ:۔عَرَفْتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ یعنی ” میں نے اپنے خُدا کو بڑے بڑے پختہ ارادوں اور مضبوط تدبیروں کے ٹوٹنے اور ناکام رہنے کے ذریعہ سے پہچانا ہے۔“ حضرت علیؓ کے اس بظاہر مختصر مگر باطن معانی سے لبریز قول میں وہی فلسفہ مخفی ہے جسے دوسرے لفظوں میں آجکل کے بعض رُوحانیت سے نا آشنا لوگ احساس کمتری (Inferiority Complex) کی اصطلاح کے نیچے لا کر ہستی باری تعالیٰ کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔حضرت علیؓ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض اوقات اپنے کسی مقصد کے حصول کے لئے بڑے بڑے پختہ ارادے قائم کرتا ہے اور مضبوط ترین تدبیروں کے ذریعہ تمام ان اسباب کو جمع کر لیتا ہے جو اس معاملہ میں کامیابی کے لئے بظاہر ضروری ہوتے ہیں۔حتی کہ کوئی درمیانی روک باقی نہیں رہتی اور اس کے بعد وہ سمجھتا ہے کہ بس اب مجھے یہ مقصد حاصل ہو گیا کہ اچانک پردہ غیب سے ایسے حالات ظاہر ہو جاتے ہیں جو اس کی پختہ تدبیروں کےتار پود کو بکھیر کر رکھدیتے ہیں اور اس کے عزائم کی چٹان پاش پاش ہو کر گر جاتی ہے۔اس وقت عقلمند انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ظاہری عزم اور ظاہری تدبیر ہی آخری چیز نہیں ہے بلکہ انسانی تدبیروں سے بالا اور اس کے عزائم سے مضبوط تر ایک اور ہستی بھی ہے جس کے سامنے انسان اپنی انتہائی عقل و دانش اور اپنے وسیع سازوسامان کے باوجود ایک مردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اور یہی وہ احساس کمتری ہے جس سے دُنیا کے سمجھدار لوگ ہمیشہ خدا کی طرف رہنمائی پاتے رہے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ اسی سے مغرب کے مادہ پرست 238