ہمارا خدا — Page 202
جاتے ہیں :۔اوّل وہ دہر یہ جو صرف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا موجود ہونا ثابت نہیں ہے۔یعنی چونکہ ہمارے پاس خدا کے موجود ہونے کی کوئی صحیح اور مضبوط دلیل نہیں ہے اس لئے ہم اُسے نہیں مانتے اور انہی لوگوں کی کثرت ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ دہریوں میں اس خیال کے لوگ شاید توے فیصدی سے بھی زیادہ ہونگے۔دوسرے وہ دہر یہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہستی باری تعالیٰ کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ وہ دلائل کے ساتھ ثابت ہو ہی نہیں سکتا یعنی یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے سوال کو دلائل کے ساتھ حل کیا جاسکے۔ایسے لوگ بھی عملاً خدا کو نہیں مانتے۔تیسرے وہ دہر یہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے۔یعنی وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا کا موجود نہ ہونا بعض دلائل وقرائن سے ثابت ہے۔مگر ایسے لوگ بھی اپنے عقیدہ کی حقیقی بنیاد ان دلائل پر نہیں رکھتے بلکہ ان کی حقیقی بنیاد بھی صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ خُدا کے موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں لیکن ضمنی طور پر وہ بعض دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔مگر یہ لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں اور غالبا د ہریوں میں ان کی تعداد ایک فیصدی سے زیادہ نہیں ہوگی بلکہ شاید اس سے بھی کم ہو۔گویا پہلی قسم کے دہریوں کے عقیدہ کا خلاصہ ” عدم تسلیم بوجہ عدم ثبوت ہے۔دوسری قسم کے دہریوں کے عقیدہ کا خلاصہ ” عدم تسلیم و انکار بوجه عدم امکان ثبوت و انکار ہے اور تیسری قسم کے دہریوں کے عقیدہ کا خلاصہ انکار بوجہ وجوہ انکار ہے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے دہریوں میں پہلی قسم کے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور تیسری قسم کے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے اور درمیانی قسم کے لوگوں کی تعداد بھی کم ہے مگر تیسری قسم سے زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یورپ و امریکہ کے دہریوں نے 202