ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 255

ہمارا خدا — Page 70

ان ہواؤں کو بادل کی صورت میں لا کر بارشیں برسادیں۔اگر یہ سب کچھ اسی اتفاقی قانون نے کیا اور یہی قانون وہ ہستی ہے جو خالق ہے، مالک ہے، رب ہے، علیم ہے، قدیر ہے، حکیم ہے، متصرف ہے، ہیمن ہے جو غور کرتی اور سوچتی ہے، جو حالات کی مناسبت کا خیال رکھتی ہے، جو اگر ضرورت پیدا کرتی ہے تو دوسری جگہ اس کے پورا کرنے کا سامان بھی مہیا کر دیتی ہے تو ہمیں ناموں سے کچھ سروکار نہیں۔پھر وہی ہمارا خدا ہے اور اسی کے سامنے ہم محبت و عبودیت کا سجدہ بجالاتے ہیں۔غرض کسی طریق کو بھی اختیار کیا جاوے اس بات کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ یہ کائنات اور اس کا حکیمانہ نظام ایک ایسی ہستی کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو خالق ہے، مالک ہے، حکیم ہے، علیم ہے، قدیر ہے، متصرف ہے ، غرض ان تمام صفات سے متصف ہے جو مذہب خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے علمی اصطلاحات اور پیچید گیوں سے بچنے کے لئے محض سادہ طور پر اس دلیل کو بیان کیا ہے تا کہ ہمارے نو جوان عزیز اسے آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔لیکن اس دلیل کو علمی طور پر بھی بیان کیا جاسکتا ہے جو مختصراً یہ ہے کہ نیچر کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اس دُنیا کی لاتعداد مختلف اشیاء میں انفرادی طور پر بھی اور مجموعی طور پر بھی تین چیزیں پائی جاتی ہیں۔اوّل دُنیا کی ہر چیز میں کیا بلحاظ اس کی اپنی ذات کے اور کیا بلحاظ دوسری چیزوں کے ساتھ اس کے تعلقات کے ایک نہایت یہ مفصل اور کامل و مکمل قانون جاری ہے جسے انگریزی میں لاء آف نیچر (Law of Nature) کہتے ہیں اور یہ قانون اگر اس کو صحیح طور پر مطالعہ کیا جاوے تو صانع عالم کے وجود پر ایک نہایت زبر دست اور روشن دلیل ہے۔مگر افسوس ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی کوتاہ نظری سے خود اسی قانون کو اپنے لئے ٹھوکر کا موجب بنارکھا ہے۔دوسرے دنیا کی ہر چیز میں اور نیز اس حکیمانہ قانون میں جو نیچر میں کام کر رہا ہے 70