ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 255

ہمارا خدا — Page 71

نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ مجموعی طور پر بھی ایک خاص معین نقشہ اور ترتیب نظر آتی ہے جسے دیکھتے ہوئے کوئی دانا شخص اسے ہرگز اتفاق کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔اس نقشہ اور ترتیب کو انگریزی میں ڈیزائن (Design) یا پلین (Plan) کہتے ہیں۔تیسرے دُنیا کی ہر چیز معہ اپنے قانون اور معہ اپنے ڈیزائن یا پلین کے ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔یعنی اس عالم دنیوی کی ہر چیز میں ایک علت غائی ثابت ہوتی ہے اور اس علم کو انگریزی میں ٹیلی آلو جی (Teleology) کہتے ہیں اور یہ علت غائی ذات باری تعالیٰ کے وجود پر ایک نہایت زبردست دلیل ہے۔مختصر یہ کہ نظام عالم کا مطالعہ بڑے زور کے ساتھ انسان کو اس طرف مائل کرتا ہے کہ یہ دنیا خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے بلکہ ایک مدرک بالا رادہ ہستی کے دست قدرت سے عالم وجود میں آئی ہے۔وھوالمراد۔مغربی محققین اور خُدا کا عقیدہ اس بحث کے ختم کرنے سے قبل میں مغربی محققین کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں جو ہر بات کو سائنس و فلسفہ کی روشنی میں مطالعہ کرنے کے عادی ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ اہلِ مغرب میں سے جو لوگ اس زمانہ میں ہستی باری تعالیٰ کے منکر ہوئے ہیں وہ عموماً سائنس اور فلسفہ جدید کے نظریات سے استدلال کرتے ہیں۔ان لوگوں کا یہ بیان ہے کہ مادہ کے اندر مختلف صورتیں اختیار کر سکنے کا جو ہر طبعی طور پر پایا جاتا ہے اور مادہ میں یہ بھی ایک فطری خاصہ ہے کہ وہ ایک وقت تک ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کرتا جاتا ہے۔چنانچہ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ مادی دنیا اپنی موجودہ صورت میں کئی تبدیلیوں کے نتیجہ میں جو اصولِ ارتقاء کے ماتحت عمل میں آئی ہیں قائم ہوئی ہے۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ انسان ہمیشہ سے اسی شکل و ہیئت میں نہ تھا۔بلکہ کسی دُور 71