ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 255

ہمارا خدا — Page 66

یہ سُورج اُن ستاروں میں سے ہے جو نسبتاً زمین کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ بعض ستاروں کا زمین سے اتنا فاصلہ ہے کہ اُس کے اظہار کے لئے تمہاری زبان میں کوئی عدد تک مقرر نہیں پھر یہ بھی جانتے ہو کہ سورج کا حجم کتنا ہے؟ یہ بھی سُن لو۔تمہاری یہ زمین جس کی وسعت پر تمہیں اتنا ناز ہے اور جو باوجود گول ہونے کے اپنی عظیم الشان وسعت کی وجہ سے چپٹی نظر آتی ہے سات ہزار نو سو چھیں میل کا قطر رکھتی ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں سورج کا قطر آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے لیکن اگر حیران نہ ہو تو میں پھر تم سے یہ بھی کہہ دوں کہ آسمانی ستاروں میں سے بہت سے ستارے ایسے ہیں جن کے سامنے یہ سورج حجم کے لحاظ سے اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا جیسے کہ ایک عقاب کے مقابلہ میں پدی کی حیثیت ہے۔یہ تو ان فضا نشینوں کی ظاہری شکل وصورت کا حال ہے اور اگر اس عظیم الشان نظام کا مطالعہ کیا جائے جس کے ماتحت یہ لاکھوں کروڑوں عالم فضاء آسمانی میں چکر لگارہے ہیں تو عقل انسانی خود چکر میں آنے لگتی ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ ہر ستارہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر اپنے اپنے قواعد کے ماتحت چگر لگا رہا ہے اور کیا مجال ہے کہ ایک ستارہ کسی دوسرے ستارے سے ٹکرا جاوے یا اپنے دائرہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے دائرہ کے اندر جا داخل ہو اور یہ قاعدہ صرف اجرام سماوی ہی کے متعلق نہیں بلکہ زمین پر بھی ہر چیز اپنے اپنے حلقہ کے اندر محصور ہے اور یہ کسی کو طاقت نہیں کہ اپنے حلقہ سے آزاد ہو کر دوسرے حلقے میں داخل ہو سکے۔آگ کا کام ہے کہ جلاوے۔پانی کا کام ہے کہ بجھاوے۔درخت کا کام ہے کہ زمین میں ایک جگہ استادہ کھڑا رہے۔پرندہ کا کام ہے کہ ہوا میں اُڑتا پھرے۔انسان کا کام ہے کہ زمین پر چلے۔مچھلی کا کام ہے کہ پانی میں تیرے۔گائے کا کام ہے کہ گھاس کھائے۔شیر کا کام ہے کہ دوسرے جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔یہ موٹی موٹی مثالیں ہیں ورنہ ہر چیز اپنے خواص اور اپنی طاقتوں اور 66