ہمارا خدا — Page 65
ہیں اور اس حکیمانہ قانون کے معلوم کرنے کے پیچھے پڑے رہے ہیں جو مختلف اعضاء انسانی یعنی دل و دماغ ، گردہ، پھیپھڑا، جگر ، معدہ، آنکھ ، کان ، ناک وغیرہ میں کام کر رہا ہے لیکن خدا کی اس بظاہر چھوٹی سی کان کا کتنا حصہ ہے جو وہ اس وقت تک دنیا کے سامنے نکال کر پیش کر سکے ہیں؟ اور یقینا دنیا کا خاتمہ آ جائے گا لیکن اس عالم صغیر کے خزانے ختم نہ ہونگے۔ایک پھول کو ہی لے لو جو تمہارے راستہ کے ایک کنارے پر خودروطور پر نکل آتا ہے اور بسا اوقات کسی بے درد غافل را بگیر کے پاؤں کے نیچے مسلا جا کر ہمیشہ کے لئے دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔اس کی شخصی مشخصی پتیوں میں سینکڑوں رگیں اور نالیاں ایک جال کی طرح پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور یہ ہر رگ اور ہر نالی اپنے کام اور اپنے قانون کے لحاظ سے ایک عالم کا حکم رکھتی ہے جس کی کامل دریافت کے واسطے عمر نوح بھی کافی نہیں ہو سکتی۔ہاں ذرا اس حقیر اور قریبا نہ نظر آنے والے تم پر بھی ایک نظر ڈالو جو ایک مٹھی بھر جگہ میں لاکھوں کی تعداد میں سا سکتا ہے لیکن جب وہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے جس کے سایہ کے نیچے ہزاروں انسان آرام کر سکتے ہیں۔اور کیا تم نے انسانی زندگی کا بھی مطالعہ کیا ہے؟ ایک وقت تھا کہ انسان ایک ایسے حقیر خوردبینی کیڑے کی شکل میں اپنے باپ کے جسم کا حصہ تھا کہ شاید کوئی نازک مزاج شخص اُسے دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا، لیکن آج وہی ہے کہ ایک خوبصورت، دلکش اور دل و دماغ کی اعلیٰ ترین طاقتوں سے آراستہ وجود بنا بیٹھا ہے۔آؤ اب ذرا آسمان کی طرف بھی ایک نظر اُٹھا کر دیکھو۔یہ سورج، یہ چاند، یہ ستارے تمہارے سامنے کیا منظر پیش کرتے ہیں۔سورج ہی کو لے لو۔کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ سورج تمہاری زمین سے کتنے فاصلہ پر ہے؟ سنو ! اس کا فاصلہ زمین سے نو کروڑ تمیں لاکھ میل ہے اور اگر حیران نہ ہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ اجرام سماوی میں سے تمہارا 65