ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 255

ہمارا خدا — Page 39

وہ ماں سے زیادہ محبت کرنے والا اور وفا دار خدا ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کی سچی تلاش کرنے والا اُس کے متعلق تاریکی میں رہ کر ہلاک ہو جاوے۔یہ بھی ایک عجیب نظارہ ہے کہ فلسفی بھی تلاش کرتا ہے اور سالک بھی۔مگر فلسفی سے خُدادُور بھاگتا ہے اور سالک کے پاس خود بھاگتا ہو ا آتا ہے۔پس اے میرے عزیز و اتم خدا کے متعلق کبھی بھی فلسفیانہ طریق تحقیق اختیار نہ کرو کیونکہ اس طرح تم خُدا کو بھی نہیں پاسکتے اور یہ تلاش ہے بھی بے سود۔کیونکہ اگر ہم نے محض علمی طور پر خدا کے وجود کا پتہ لگا کر پھر خاموش ہو جاتا ہے تو ہمیں اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم جو اپنا وقت اور توجہ اور طاقت خرچ کریں تو کیا صرف اس لئے کہ ہمیں یہ علم حاصل ہو جائے کہ کوئی خُدا ہے یا نہیں اور بس؟ ایسا علم ہمارے واسطے ذرہ بھر بھی مفید نہیں ہوسکتا بلکہ الٹا نقصان دہ ہوگا کیونکہ خدا کا علم پا کر پھر اُس سے غافل رہنا ہمیں دو ہرا مجرم بنا دیگا۔اسی لئے ہماری اس قسم کی کوشش کے نتیجہ میں خُدا کبھی بھی اپنا چہرہ ہم پر ظاہر نہیں کرے گا بلکہ وہ صرف اُسی صورت میں ہم پر ظاہر ہو گا جب وہ یہ دیکھے گا کہ ہم ایک سچی تڑپ کے ساتھ اُس تک پہنچنا چاہتے ہیں تا کہ اُس کے قُرب کی برکات سے مستفید ہوں اور اُس کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کر کے اپنے لئے اعلیٰ ترقیات کا دروازہ کھول سکیں جو انسانی زندگی کا مقصد ہے۔پس سچی تڑپ اور دلی ولولہ پیدا کرو تا تمہاری کوشش بارآور ہو اور تمہاری محنت ٹھکانے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔کوئی راہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا زر بے شمار 39