ہمارا خدا — Page 40
تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیرانداز و نہ ہونا سُست اس میں زینہار ہے یہی اک آگ تا تم کو بچائے آگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار اس سے خود آکر ملے گا تم سے وہ یار ازل اس سے تم عرفانِ حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار نیز فرماتے ہیں ؎ وو فلسفی کز عقل می جوید ترا دیوانه هست دور تر هست از خردها آن راه پنهان یعنی فلسفی جو محض عقل کے ذریعہ سے تجھے (اے خُدا ) پانا چاہتا ہے وہ یقیناً دیوانہ ہے کیونکہ تیری پوشیدہ راہیں خشک عقل وخرد کی پہنچ سے بہت دور واقع ہوئی ہیں۔“ ایمان باللہ کے دو درجے اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ چونکہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات وراء الوراء ہے اور بوجہ اپنی کمال لطافت اور غیر محدود ہونے کے انسان کی مادی آنکھوں کے احاطہ سے باہر ہے اور دوسری طرف ایمان کامل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فائدہ دے سکتا ہے جب تک خدا کے متعلق انسان کم از کم اس درجہ کا یقین نہ پیدا کرے جیسا کہ دُنیا کی مادی چیزوں کے متعلق اُسے حاصل ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی حکیمانہ قدرت سے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ ایک حد تک تو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھائے اور اُس کے بعد خدا خود انسان کی طرف نزول فرما کر اُسے اُوپر اُٹھالے۔40