ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 38 of 255

ہمارا خدا — Page 38

بندوں کے ساتھ کیا تعلق ہے اور بندوں کا اُس کے ساتھ کیا تعلق ہونا چاہئے اور اس تک پہنچنے کا کیا ذریعہ ہے؟ کیونکہ اس کا مقصود خُدا کا تعلق نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ علمی طور پر پستہ لگائے کہ کوئی اس کارخانہ عالم کا صانع بھی ہے یا نہیں۔وہ اُس کے تعلق کا خواہشمند نہیں، اس کے قرب کا شائق نہیں، اس کی دوستی کا خواہاں نہیں، اس کے دل میں اس تک پہنچنے کی تڑپ نہیں ، اُس کی مرضی کا علم حاصل کر کے اُس کے بجالانے کا خیال نہیں، بس ایک علمی تحقیق ہے جسے وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔دوسری طرف سالک ہے جو خدا کے لئے سرگرداں ہے، اُس کے تعلق کا خواہشمند ہے، اُس کے قرب کا شائق ہے، اس کی دوستی کا خواہاں ہے، اس تک پہنچنے کے واسطے بے قرار ہے اور اُس کی رضا کا علم حاصل کر کے اُس پر کار بند ہونا چاہتا ہے اور ایک بچی تڑپ کے ساتھ اُس کی تلاش کرتا ہے۔کیا ان دونوں کی تلاش ایک رنگ کی ہوگی؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔پس سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی نیت کو درست کرے اور ایک فلسفی کے طور پر نہیں بلکہ ایک سالک کے طور پر اس میدان میں قدم زن ہو اور اپنے دل میں اس تڑپ اور اس بے چینی کو پیدا کرے جو صداقت کی تلاش کے لئے ضروری ہے۔دیکھو ماں کا دودھ اس کے پستانوں میں اس طرح نہیں اترا کرتا کہ بچہ ایک معقول اور سنجیدہ صورت بنا کر ماں کے سامنے اس بات کا اظہار کرے کہ اے میری ماں میں تیرا دودھ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا وہ میری خوراک بننے کے لئے موجود بھی ہے یا نہیں۔بلکہ دودھ اس طرح اُترا کرتا ہے کہ بچہ جب بھوک سے روتا اور بلبلاتا ہے تو اُس وقت ماں اگر اپنے آپ کو روکنا بھی چاہے تو نہیں رک سکتی اور بے اختیار ہو کر اُس کے پستانوں سے دودھ بہنے لگ جاتا ہے تا کہ یہ دودھ اس کے بچے کے جسم کی خوراک بن کر اُسے ہلاکت سے بچا لے۔پس خدا بھی اپنا چہرہ فلسفی پر نہیں ظاہر کرتا بلکہ اس سے دور بھاگتا ہے کیونکہ وہ فلسفیوں کے تخیلات کا کھلونا نہیں بننا چاہتا۔مگر سالک کے پاس خد ا خود آتا ہے کیونکہ 38