ہمارا خدا — Page 37
بالکل دوسرے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسرا اثر پیدا کرتا ہے۔الغرض نیت کو انسان کے ہر کام میں بڑا دخل ہے اور نیت کا اثر انسان کے تمام کاموں میں ضرور کسی نہ کسی صورت میں رونما ہوتا ہے اور یہ اثر کوئی فرضی اور خیالی اثر نہیں ہوتا بلکہ واقعی اور حقیقی اثر ہوتا ہے مثلاً فرض کرو کہ ایک انسان اپنے افسر کی جس کے ماتحت وہ رکھا گیا ہے صرف اس لئے اطاعت کرتا ہے کہ وہ اس کا افسر ہے مگر اس کے احکام میں اسے کوئی ذاتی دلچسپی نہیں اور نہ اس افسر کے ساتھ اسے کوئی ذاتی محبت کا تعلق ہے اور نہ اُس افسر کی لیاقت اور قابلیت کا اُس کے دل پر کوئی اثر ہے تو ایسی صورت میں اس کی اطاعت محض ایک ضابطہ کی اطاعت ہوگی اور وہ صرف اپنے فرض منصبی کو پورا کرنے کے لئے اس کے احکام کی تعمیل کریگا اور اُس کے کاموں میں کوئی شوق اور ولولہ اور دلچسپی نہیں نظر آئے گی۔لیکن اگر وہی شخص اپنے افسر کے ساتھ ذاتی محبت کا تعلق رکھتا ہو اور اس کی لیاقت اور قابلیت کا مداح ہو اور اس کے احکام میں دلچسپی رکھتا ہو تو پھر اُس کی اطاعت بالکل ہی اور صورت میں ظاہر ہوگی اور اس کا کام کرنے کا طریق بالکل ہی نرالا ہوگا اور اس کے ہر حرکت و سکون میں شوق اور ولولہ اور ایک ذاتی لگاؤ کا رنگ نظر آئے گا اور یہ فرق اس لئے ہوگا کہ گو کام ایک ہی ہے یعنی اطاعت لیکن نیتیں مختلف ہیں اور نیتوں کے اختلاف نے طریق عمل کی صورت کو بدل دیا ہے۔اسی طرح خدا کے متعلق تحقیق کرنے کا سوال ہے۔ایک فلسفی بھی تحقیق کرتا ہے اور ایک سالک بھی۔اور دونوں کا مقصود ایک ہی ہے کہ خدا کا پتہ لگائیں، لیکن نیتوں میں بھاری فرق ہے۔فلسفی تو اس لئے اس میدان میں قدم زن ہوتا ہے کہ اپنی عقل کی امداد سے صحیفہ عالم پر نظر ڈال کر یہ پتہ لے کہ آیا کوئی اس کا رخانہ عالم کا بنانے والا بھی ہے یا نہیں اور پھر جس نتیجہ پر وہ پہنچے اسے اپنی علمی معلومات کے خزانہ میں جمع کر دے اور بس۔اُسے اس سے غرض نہیں کہ خدا ہے تو رکن صفات والا ہے اور اس کا اپنے 37