ہمارا خدا — Page 36
دور دوره نه شروع ہو جائے ؟ کیا عالم اور جاہل، جفاکش اور کاہل محنتی اور ست، تجربہ کار اور اناڑی میں کوئی امتیاز اور فرق باقی رہ جائے؟ کیا انسان کی دماغی ترقی کا راستہ بالکل مسدود نہ ہو جائے؟ کیا انسان کے اعلیٰ اخلاق کی عمارت دیکھتے دیکھتے مسمار ہو کر خاک میں نہ مل جائے؟ خوب سوچ لو کہ یہ جو انسان کی جسمانی اور مادی اور علمی اور عملی اور اخلاقی اور روحانی ترقی اب تمہیں نظر آتی ہے یہ ساری اسی بات کی طفیل ہے کہ دنیا ایک قانون کے ماتحت چل رہی ہے اور ہر مقصد کے حصول کے واسطے ایک طریق مقرر ہے جس کے بغیر وہ حاصل نہیں ہوسکتا اس قانون کو الگ کر دو اور تم دیکھو گے کہ یکانت تمام ترقیات کا دروازہ بند ہو کر انسانی دماغ ایک منجمد پتھر کی صورت اختیار کرلے گا اور وہ ہستی جو اشرف المخلوقات کہلاتی ہے ایک آنِ واحد میں دنیا کی حقیر ترین مخلوق سے بھی نیچے گر جائیگی۔پس اس قانون کو اپنے راستہ میں ایک روک نہ سمجھو کیونکہ یہ تو وہ پر ہیں جو خالق کا ئنات نے علم اور عمل کی بلند چوٹیوں تک پرواز کر کے پہنچنے کے لئے تمہیں عطا کئے ہیں۔یہ وہ آفتاب ہدایت ہے جو تمہیں آئندہ ترقیات کا راستہ دکھانے کے لئے تمہارے مہربان آقا نے چڑھا رکھا ہے۔یہ وہ امتحان ہے جو عالم کو جاہل سے، عامل کو بے عمل سے، تجربہ کار کو اناڑی سے ہمخنتی کو کاہل سے ممتاز کرنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔تحقیق کے میدان میں نیت کا دخل اب سب سے پہلے یہ جانا چاہئے کہ جب کوئی آدمی کسی کام کو شروع کرنے لگتا ہے تو جس نیت کے ساتھ وہ اس کام کو شروع کرتا ہے وہ اس کے آئندہ طریق عمل پر ایک بڑی حد تک اثر ڈالتی ہے۔ایک ہی کام جب ایک نیت سے کیا جاتا ہے تو وہ اور رنگ رکھتا ہے اور اور اثر پیدا کرتا ہے اور وہی کام جب دوسری نیست سے کیا جاتا ہے تو وہ 36