ہمارا خدا — Page 24
نہیں سمجھا کیونکہ وہ ہلاکت کہ منہ میں ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کے کمال کا یہی تقاضا ہے کہ وہ لطیف ہو اور ظاہری آنکھوں سے مخفی رہے مگر اس وجہ سے اس کی ہستی کے متعلق ہرگز ہرگز کوئی شبہ پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ اسے شناخت کرنے کے لئے اس راستہ سے بہت زیادہ یقینی او قطعی راستے کھلے ہیں جو ہماری ان مادی آنکھوں کو میسر ہے۔پس اے عزیز و اتم اس قسم کے بیہودہ شبہات سے اپنے آپ کو ایمان جیسی قیمتی چیز سے محروم نہ کرو۔کیا تم ان لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے جنہوں نے باوجود نہ دیکھنے کے مقناطیس اور بجلی کی طاقتوں کو مانا۔وقت اور زمانہ کی حکومت کو اپنے اوپر تسلیم کیا۔شہوت اور غضب کے سامنے گردنیں جھکا ئیں۔مگر اپنے خالق و مالک کو محبت و عبودیت کا خراج دینے پر رضامند نہ ہوئے؟ نہیں نہیں ! تم ایسا نہیں کرو گے۔خدا کے متعلق کیوں تحقیق کی جائے؟ اب میں اصل مضمون کو شروع کرتا ہوں۔سب سے پہلا سوال جو ہمارے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے متعلق کیوں تحقیق کریں۔یعنی ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس تحقیق میں پڑیں کہ کوئی خدا ہے یا نہیں؟ واقعی جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ہے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا ایک حد تک طبعی امر ہے کہ وہ کیوں اس تحقیق میں بلا وجہ اپنا وقت اور اپنی توجہ صرف کرے کہ کوئی خدا ہے یا نہیں اس لئے سب سے پہلے اس سوال کا جواب ضروری ہے۔سو جاننا چاہئے کہ دنیا کی کسی چیز کی ضرورت یا عدم ضرورت کا دو طرح سے ہی فیصلہ ہوا کرتا ہے۔اوّل یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو چیز یا جو کام ہمارے سامنے ہے اس کے اختیار کرنے میں ہمیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔اگر فائدہ پہنچنے کی معقول امید ہو تو 24