ہمارا خدا — Page 23
بھی ہیں تو کیا پھر ان لوگوں کا حق نہیں ہوگا کہ وہ یہ درخواست کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری خاطر کوئی ایسی کثافت اختیار کرے جس کے نتیجہ میں ہم اسے سونگھ سکیں یا چکھ سکیں یا ٹول سکیں؟ کیا خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تمسخرانہ طریق اختیار کرنا انسان کے لئے جو دل و دماغ رکھنے کا مدعی ہے قابل شرم نہیں ہے؟ تم کہتے ہو کہ ہم خدا کو اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک ہم اس کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لینگے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر خدا ان آنکھوں سے نظر آنے لگے تو میرے نزدیک وہ اس قابل ہی نہیں رہے گا کہ ہم اس پر ایمان لائیں چہ جائیکہ اس کا ماننا ہمارے لئے آسان ہو جائے۔کیونکہ اس صورت میں اس کی کئی دوسری صفات کو باطل قرار دینا ہوگا۔مثلاً وہ لطیف ہے مگر اس صورت میں وہ لطیف نہیں رہے گا بلکہ کثیف ہو جائیگا۔وہ غیر محدود ہے مگر اس صورت میں وہ غیر محدود نہیں رہے گا بلکہ محدود ہو جائیگا وغیر ذالک۔اور پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر خدا تمہاری خاطر یعنی اس لئے کہ تم اس پر ایمان لے آؤ کثافت اور محدودیت اختیار کرے تو پھر تم اس وجہ سے اس کا انکار نہ کرنے لگ جاؤ گے کہ ہم کثیف اور محدود خدا کو نہیں مان سکتے۔اللہ اللہ! کیا ہی مقدس، کیا ہی دلر با اور کیا ہی کامل ہستی ہے جس کی ہر صفت پر اس کی دوسری صفات پہرہ دار کے طور پر کھڑی ہیں۔کیا مجال ہے کہ کوئی شخص اس کی کسی صفت پر حملہ آور ہو اور پھر اس کی دوسری صفات بیدار اور فرض شناس سنتریوں کی طرح اس شخص کو خائب و خاسر کر کے ذلت کے گڑھے میں نہ دھکیل دیں۔ابھی ہم نے دیکھا کہ معترض نے صرف خدا کے مخفی ہونے کی صفت کے متعلق شبہ پیدا کیا تھا۔مگر کس طرح اس کے لطیف ہونے کی صفت اور اس کے غیر محدود ہونے کی صفت نے فوراً سامنے آکر اس کے اس اعتراض کو پاش پاش کر دیا۔سچ ہے خدا کا حسن اسی میں ہے کہ وہ مخفی ہو اور پھر آنکھوں کے سامنے رہے۔وہ باطن ہو اور پھر ظاہر میں نظر آئے ، وہ لطیف ہو اور پھر مادی چیزوں سے بڑھ کر محسوس و مشہودر ہے۔بدقسمت ہے وہ جس نے اس نکتہ کو 23