ہمارا خدا — Page 25
اسے اختیار کیا جاتا ہے ورنہ ترک کر دیا جاتا ہے۔دوسرے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی چیز یا کام کے ترک کرنے میں کسی قسم کے نقصان کا احتمال تو نہیں ہے۔اگر نقصان کا احتمال نہیں ہے تو اسے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی اور اگر احتمال ہے تو اسے اختیار کیا جاتا ہے۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی چیز کے اختیار کرنے میں ہمارے واسطے فائدہ کی امید ہے یا یہ کہ اس کے ترک کرنے میں نقصان کا اندیشہ ہے تو اس صورت میں ہر عظمند کا یہی فتوی ہوگا کہ اسے اختیار کرنا ہمارے لئے نہ صرف مناسب بلکہ ضروری ہے۔اسی اصول کے ماتحت ہم اس ضرورت کے درجہ اہمیت کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔یعنی اگر کسی چیز کا اختیار کرنا ہمارے لئے بہت بڑے فائدہ کی امید پیدا کرتا ہے تو اس کا اختیار کرنا اسی نسبت سے ہمارے لئے بہت ضروری ہوگا۔اسی طرح اگر اس کے ترک کرنے میں بہت بڑے نقصان کا احتمال ہے تو اسی نسبت سے اس کا ترک کرنا ضروری سمجھا جائے گا۔اب آؤ اس اصول کے ماتحت ہم سوال زیر بحث پر نظر ڈالیں۔سوال یہ ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے متعلق کسی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بالفاظ دیگر اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ہمارا ایک خدا ہے تو کیا اسے مان لینے میں ہمیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔یا اس کے انکار کر دینے میں ہمارے لئے کسی قسم کے نقصان کا احتمال ہے یا نہیں؟ اس فیصلہ کے لئے ہمیں اس سوال کی نوعیت پر غور کرنا ہوگا جو خدا تعالیٰ کے متعلق ہمارے سامنے آتا ہے۔اگر تو خدا کا وجود ہمارے سامنے ایسی صورت میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا ماننانہ مانا ہمارے لئے قریباً برابر ہے اور ہماری زندگی پر اس کا کوئی براہ راست اثر نہیں پڑتا بلکہ یہ ایک محض علمی سوال ہے تو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے سوا جو علمی مذاق رکھتے ہیں اور محض علم کی خاطر کسی مسئلہ پر غور کرنے کے عادی ہیں باقی تمام لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ اس تحقیق میں پڑنے سے انکار کر دیں اور اپنی توجہ کو صرف ان 25