ہمارا خدا — Page 207
علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ماحول کے مناسب حال نہ ہونے کی وجہ سے بعض چیزوں کا ضائع ہو جانا اور بعض کا اپنے آپ کو آہستہ آہستہ ماحول کے مطابق بنالینا ہرگز اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ دُنیا بغیر کسی ترتیب (Design or Plan) کے ہے۔بلکہ اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو یہی بات کہ بعض چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں اور بعض قائم رہتی ہیں عالم میں ایک ترتیب اور ایک علت غائی اور ایک منشاء حیات کو ثابت کر رہی ہے۔کیونکہ بعض چیزوں کا گر جانا اور بعض کا قائم رہنا سراسر حکمت کے فعل کا نتیجہ ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خالق کا ئنات اپنے باغ کی بہبودی و ترقی کے خیال سے درختوں کی کانٹ چھانٹ کرتا رہتا ہے اور جو شاخیں یا جو پودہ جات کمزور ہوتے ہیں اور کسی نقص کی وجہ سے تغیرات زمانہ کے اثرات کو برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے قاصر رہتے ہیں انہیں کاٹ کر گرا تا جاتا ہے تا کہ دوسرے مناسب حال پودے جو ترقی کی طاقت رکھتے ہوں زیادہ آزادی کے ساتھ نشو و نما پائیں اور ان کمز ور شاخوں یا پودوں کا وجود اُن کی ترقی میں روک نہ ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ جب خدا کو یہ علم تھا کہ باغ کائنات کی فلاں فلاں شاخ یا پودا کمزور رہے گا اور اپنی پیدائش کی غرض کو پورا نہیں کر سکے گا تو اُس نے اُسے پیدا ہی کیوں کیا ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ خدا نے تو تمام چیزوں کو ایک خاص غرض وغایت کے ماتحت پیدا کیا ہے اور اس کا یہی منشا ہے کہ وہ اس غرض و غایت کو پورا کریں۔لیکن اگر کوئی چیز عام قانونِ نیچر کے ماتحت اپنے اندر کوئی نقص پیدا کرلتی ہے اور زندگی کے میدان میں دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی اور اپنی خلقت کی غرض کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے تو قانون نیچر کے ماتحت ہی وہ گر جاتی ہے۔گویا کہ دونوں قانون خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کرتا ہے اور اس کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ وہ اس غرض و غایت کو پورا کرے ہو۔207