ہمارا خدا — Page 206
بھی وہ ایسے اوزار کی حیثیت تو بہر حال ضرور رکھتے ہیں جن سے ایک کاریگر آگے ایک چیز تیار کرتا ہے جو ان اوزار کے استعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور کاریگر کا وجود زیادہ تر اسی نتیجہ سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔پس یہ اسباب و علل خدا کی ہستی کے خلاف ہرگز بطور دلیل کے پیش نہیں کئے جاسکتے بلکہ حق یہ ہے کہ ان اسباب کا وجود اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان اسباب کا نتیجہ جو اس کائنات کے ایک خاص سمت میں اور ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت چلنے سے ظاہر ہورہا ہے ایک بالا ہستی کے موجود ہونے کا بتین ثبوت ہے جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کرسکتا۔دہریت کی تیسری دلیل اور اُسکا رڈ تیسری دلیل جو بعض دہریوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور جس سے وہ خُدا کی ہستی کے خلاف استدلال کرتے ہیں وہ مسئلہ ارتقاء پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ارتقاء کی پیش کردہ تھیوری نے یہ بات ظاہر کر دی ہے کہ جو چیزیں اس وقت دنیا میں نظر آتی ہیں ان کی موجودہ شکل وصورت ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی کہ جواب ہے بلکہ ابتداء میں وہ ایک ادنیٰ حالت میں تھیں اور پھر آہستہ آہستہ ارتقاء کر کے اپنی موجودہ شکل وصورت کو پہنچی ہیں۔یعنی ہر چیز آہستہ آہستہ اپنے ماحول کے مناسب حال صورت اختیار کرتی گئی ہے اور جو چیزیں اس ماحول کے مطابق تغیر پذیر نہیں ہو سکیں وہ آہستہ آہستہ ضائع ہو گئیں۔اور اس سے یہ لوگ استدلال کرتے ہیں کہ اس عالم میں کوئی ترتیب (Design or Plan) نہیں ہے بلکہ موجودہ کا ئنات محض اتفاقی حالات کا اس دلیل کا اصولی رڈ بھی اوپر گذر چکا ہے۔(دیکھو کتاب ہذا صفحہ 76 تا85) اس ایڈیشن کے صفحات 71 تا 87 (پبلشرز ) 206