ہمارا خدا — Page 208
اور یہ بھی کہ جو چیز ضرر رساں اثرات کے ماتحت آکر اس غرض و غایت کے پورا کرنے سے قاصر رہے وہ ضائع ہو جائے۔جس طرح مثلاً ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے رُوحانی اور مادی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے لیکن بعض انسان اپنے اعمال کی وجہ سے اس غرض کو پورا نہیں کرتے اور پھر وہ بوسیدہ شاخوں کی طرح کاٹ دیئے جاتے ہیں۔دوسرے یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جو چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں بعض صورتوں میں قانون نیچر کے ماتحت اُن کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک عرصہ تک قائم رہ کر دوسری چیزوں کی ترقی میں امداد دیں اور پھر جب یہ دوسری قائم رہنے والی چیزیں مستحکم ہو جائیں اور اپنے اس کمال کو پہنچ جائیں جو ان کی پیدائش کا مقصد ہے تو ان سہارا دینے والی چیزوں کو ضائع کر دیا جائے۔جیسا کہ زراعت میں بھی بعض اوقات بعض پودہ جات لگائے جاتے ہیں اور بعض دوسرے پودہ جات جن کا وجود بالذات مقصود نہیں ہوتا اور جنہیں انگریزی میں فلرز (Fillers) کہتے ہیں ان پودہ جات کی حفاظت اور پرورش اور ترقی کے لیے اُن کے آس پاس لگا دئے جاتے ہیں اور پھر جب اصل پودہ جات اچھی طرح مستحکم ہو جاتے ہیں تو یہ زائد پودے ضائع کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ اب ان کی پیدائش کی غرض پوری ہو چکی ہوتی ہے اور اس کے بعد ان کا قائم رہنا ان پودہ جات کے لئے جو بالذات مقصود ہیں ضررساں ہوتا ہے۔علاوہ ازیں سائنس سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ بعض چیزوں کا مرنا ہی اپنی ذات میں دوسری چیزوں کی زندگی اور استحکام اور ترقی کا موجب ہوتا ہے اور اس لئے ان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ خود مرکر دوسروں کی زندگی اور ترقی کا باعث بنیں۔اور اس کی بیشمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔الغرض کسی طرح بھی دیکھا جائے بعض چیزوں کا ایک وقت تک چل کر ضائع ہو جانا اور بعض کا قائم رہنا اور ترقی کر جانا ہرگز خدا کی ہستی کے خلاف بطور دلیل کے 208