ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 255

ہمارا خدا — Page 205

لئے دونوں کو ایک قیاس کے ماتحت ہرگز نہیں لایا جاسکتا اور یہ بالکل غلط ہے کہ دنیا کو ہمیشہ سے مانا نسبتاً زیادہ آسان اور زیادہ سادہ اور محفوظ ہے بلکہ دنیا کو ہمیشہ سے ماننے میں اس قدر اشکال پیش آتے ہیں کہ جن کا کوئی حل نہیں ہوسکتا۔ہاں البتہ دُنیا کو مخلوق مان کر اُس کے خالق کو ہمیشہ سے مانا یقیناً زیادہ قریب الفہم اور زیادہ قرین قیاس اور زیادہ سادہ اور زیادہ محفوظ امر ہے اور پھر خدا کے موجود ہونے کے دلائل مزید براں ہیں۔اگر ضرورت ہو تو ناظرین اس بحث کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں جو اس امر کے متعلق او پر گذر چکی ہے اس جگہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔دہریت کی دوسری دلیل اور اُس کا رڈ دوسری دلیل ہستی باری تعالیٰ کے انکار کی ان دہریوں کی طرف سے یہ پیش کی جاتی ہے کہ قانون نیچر اور سلسلہ اسباب و علل اس قدر کامل و کمل ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اس کائنات کے لئے قطعاً کسی خدا یا کسی بالا ہستی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔اور بغیر کسی ضرورت کے کسی بالا ہستی کو مانا ایک وہم سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا وغیرہ وغیرہ۔اس دلیل کارڈ بھی اوپر گذر چکا ہے (دیکھو کتاب ہذا صفحہ 68 تا 77) جہاں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح با وجود ایک مکمل قانون کے ایک بالا ہستی کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نیز یہ بھی بتایا گیا تھا کہ باوجود اس سلسلۂ اسباب و علل کے اس دُنیا میں ایک خاص غرض و غایت اور ایک خاص منشاء حیات کا پایا جانا ایک صانع ومتصرف ہستی پر دلالت کر رہا ہے۔ضرورت ہو تو اس بحث کو بھی اوپر دیکھا جاسکتا ہے۔اعادہ کر کے مضمون کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔دراصل یہ نہیں سوچا گیا کہ گو اسباب و علل اپنی ذات میں بھی ایک صانع اور نگران ہستی کو چاہتے ہیں لیکن اگر ایسانہ بھی سمجھا جائے تو پھر اس ایڈیشن کے صفحات 62 تا 79 (پبلشرز ) 205