ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 255

ہمارا خدا — Page 204

کیا ہے۔دوسرے یہ کہ وہ خود بخود اپنے کسی اندرونی قانون اور سلسلہ اسباب وعلل کے ماتحت ہمیشہ سے یا کسی خاص زمانہ سے چلتی چلی آرہی ہے۔ان دوصورتوں کے علاوہ اور کوئی صورت عقلِ انسانی تجویز نہیں کرتی اور گو یہ دونوں صورتیں عقل انسانی کے ادراک سے بالا ہیں۔یعنی ہماری عقل اس بات کے سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک چیز (خواہ وہ خدا ہو یا کائنات) خود بخود ہمیشہ سے یا کسی خاص زمانہ سے چلتی چلی آرہی ہے لیکن ہم مجبور ہیں کہ انہی دوصورتوں میں سے کسی صورت کو قبول کریں کیونکہ اس کے بغیر کوئی تیسری صورت ممکن نہیں ہے۔اور جب ہم نے انہی میں سے کسی ایک کو قبول کرنا ہے تو دنیا کے متعلق یہ تسلیم کر لینا کہ وہ اپنے اندرونی سلسلہ اسباب و علل کے ماتحت خود بخود چلتی چلی آرہی ہے زیادہ آسان اور زیادہ سادہ اور زیادہ محفوظ ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کائنات کے اوپر کسی بالا ہستی کو مان کر پھر اس کے متعلق یہی صورت تسلیم کی جائے کہ وہ خود بخود ہمیشہ سے ہے وغیرہ وغیرہ۔اس دلیل کا مفصل رڈ اوپر گذر چکا ہے (دیکھو کتاب ہذا صفحہ 91 تا 100) جہاں کا ئنات عالم کی بناء پر ہستی باری تعالیٰ کے متعلق اثباتی دلیل بیان کی گئی۔ا ہے اور اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔وہاں پوری تشریح کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا تھا کہ یہ کارخانہ عالم اور ذات باری تعالیٰ اپنے حالات وصفات کے اختلاف کی وجہ سے ایک حکم میں نہیں آسکتے اور نہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ دونوں کو ہمیشہ سے خود بخود مانا ایک ہی رنگ رکھتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ جہاں خدا اپنے صفاتِ الوہیت کی وجہ سے اس بات کو چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہو اور اس کے اوپر کوئی بالا ہستی نہ ہو وہاں یہ دنیا ومافیہا اپنے حالات سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ خود بخود ہمیشہ سے نہیں ہیں اور نہ اس بات میں کوئی امر مانع ہے کہ ان کے اوپر کوئی اور بالا ہستی موجود ہو۔پس فرق ظاہر ہے اور اس ↓ اس ایڈیشن کے صفحات 87 تا 102 (پبلشرز ) 204